﷽
فہرست
امام
احمد بن حنبلؒ کے موقف کی اہمیت
امام احمدؒ کے بنیادی اقوال کا خلاصہ
1- امام احمد کے نزدیک کن صحابہ نے یزید کی بیعت نہیں کی؟
2- واقعۂ حرہ، اہلِ مدینہ کے ساتھ یزید کا معاملہ، اور امام
احمد کا موقف
3- یزید پر لعنت کے بارے میں امام احمدؒ کا قول
حدیث "خير الناس
قرني" کا صحیح محل
"الإمساك أحب
لي" کا مفہوم اور امام احمد کے
دونوں پہلوؤں کی تطبیق
4- یزید سے روایتِ حدیث لینے کے بارے میں امام احمد کا قول
5- یزید سے محبت کے بارے میں امام احمد کا قول
یزید کے بارے میں امام احمد کا موقف دیگر ائمہ کے نزدیک
1- شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ
امام احمد
بن حنبلؒ کے موقف کی اہمیت
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ اہلِ سنت
والجماعت کے جلیل القدر امام، سلف صالحین کے منہج کے مضبوط ترجمان، اور عقیدہ و
سنت کے باب میں معتبر مرجع سمجھے جاتے ہیں۔ صحابہ کے مقام، اہلِ بدعت کے رد، فتنوں
کے مسائل، اور اعتقادی مواقف میں ان کے اقوال کو ہمیشہ خاص اہمیت دی گئی ہے۔ اسی
لیے اہلِ علم صدیوں سے بہت سے عقائد و مواقف کو امام احمد کے موقف کی روشنی میں پرکھتے
آئے ہیں، اور ان کے موقف کو اہلِ سنت کا معتدل اور نمائندہ موقف سمجھتے رہے ہیں۔
اسی بنا پر یزید بن معاویہ کے بارے
میں امام احمد کا موقف خاص اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ اس مسئلے میں افراط و تفریط
دونوں پائی جاتی ہیں۔ اہلِ سنت والجماعت کا نمائندہ موقف وہی ہے جو امام احمد بن حنبل
سے منقول ہے؛
لہٰذا جو لوگ اس سے آگے
بڑھتے یا اس سے کم تر
بات کہتے ہیں، وہ اہلِ سنت کے معتدل موقف سے ہٹ جاتے ہیں۔
امام احمد بن حنبل سے
یزید بن معاویہ کے بارے میں مختلف اقوال منقول ہیں۔ یزید پر لعنت کے قائل لوگ ہوں
یا اس کا بے جا دفاع کرنے والے ناصبی رجحان کے حامل افراد، دونوں عموماً امام احمد
کے بعض ادھورے اقوال سے استدلال کرتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ان کا درست موقف
تمام منقول اقوال کی روشنی میں واضح کیا جائے، نیز یہ بھی بیان کیا جائے کہ امام
احمد کے مذہب و عقیدے پر قائم بڑے ائمہ و فقہاء نے ان اقوال کو کس طرح سمجھا ہے۔
امام احمدؒ
کے بنیادی اقوال کا خلاصہ
امام احمد رحمہ اللہ سے یزید بن
معاویہ کے بارے میں جو اقوال منقول ہیں، ان کا حاصل یہ ہے کہ وہ یزید سے محبت،
تولیٰ اور مدح کے قائل نہیں تھے؛ بلکہ اس کے افعال، خصوصاً واقعۂ حرہ، پر سخت
نکیر کرتے تھے اور اس سے روایتِ حدیث لینے کو بھی مناسب نہیں سمجھتے تھے۔ البتہ وہ
معین طور پر اس پر لعنت کرنے سے احتیاط کرتے اور اس باب میں سکوت و امساک کو بہتر
سمجھتے تھے۔
ان کے موقف کو چند نکات میں یوں سمجھا
جا سکتا ہے:
·
یزید
سے محبت، تولیٰ یا مدح نہیں۔
·
اس
کے دفاع کے بجائے اس کے افعال کی مذمت۔
·
واقعۂ
حرہ کے حوالے سے سخت نکیر۔
·
اس
سے روایتِ حدیث لینے سے اجتناب۔
·
معین
لعنت کے باب میں احتیاط، سکوت اور امساک۔
اب یزید سے متعلق امام احمدؒ کے تمام منقول
اقوال اور ان کا مختصر جائزہ پیش کیا جاتا ہے:
1- امام
احمد کے نزدیک کن صحابہ نے یزید کی بیعت نہیں کی؟
امام
ابو بکر الخلال رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں:
قُرِئَ عَلَى عَبْدِ
اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ، وَأَنَا أَسْمَعُ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: ثَنَا
أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، قَالَ: «لَمْ يُبَايِعِ ابْنُ الزُّبَيْرِ وَلَا
حُسَيْنٌ وَلَا ابْنُ عُمَرَ لِيَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ فِي حَيَاةِ مُعَاوِيَةَ،
فَتَرَكَهُمْ مُعَاوِيَةُ »
امام احمد رحمہ اللہ نے
فرمایا: ہمیں ابو بکر بن عیاش نے بیان کیا کہ عبد اللہ بن الزبیر، حسین بن علی،
اور عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہم نے معاویہ رضی اللہ عنہ کی زندگی میں یزید بن
معاویہ کی بیعت نہیں کی، تو معاویہ رضی اللہ عنہ نے انہیں چھوڑ دیا۔
(السنة
للخلال: 844)
اس
اثر سے معلوم ہوتا ہے کہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے نزدیک سیدنا معاویہ رضی
اللہ عنہ نے اپنی زندگی ہی میں یزید بن معاویہ کو ولی عہد مقرر کیا تھا اور اس کے
لیے بیعت بھی لینا چاہی تھی۔ لیکن یہ بیعت تمام اکابر صحابہ کے نزدیک متفق علیہ
نہیں تھی، بلکہ بعض جلیل القدر صحابہ، جیسے سیدنا حسین بن علی، سیدنا عبد اللہ بن
الزبیر اور سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہم، نے معاویہ رضی اللہ عنہ کی زندگی
میں یزید کی بیعت نہیں کی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یزید کی ولی عہدی اور اس کی
بیعت کے معاملے میں ان حضرات کو اشکال تھا، یا کم از کم وہ اسے قبول کرنے پر آمادہ
نہیں تھے۔
البتہ
اسی اثر کا دوسرا پہلو بھی قابلِ توجہ ہے کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان حضرات کو
جبر و اکراہ سے بیعت پر مجبور نہیں کیا، بلکہ "فتركهم
معاوية" یعنی انہیں چھوڑ دیا۔ اس سے معاویہ
رضی اللہ عنہ کے حلم، سیاسی تحمل، اور ان اکابر صحابہ کے مقام کی رعایت ظاہر ہوتی
ہے۔ پس اس اثر سے ایک طرف یزید کی ولی عہدی کا محلِ نزاع ہونا ثابت ہوتا ہے، اور
دوسری طرف یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے اختلاف کرنے والے صحابہ
کے ساتھ جبر کا معاملہ نہیں کیا۔
2- واقعۂ
حرہ، اہلِ مدینہ کے ساتھ یزید کا معاملہ، اور امام احمد کا موقف
امام ابو بکر الخلالؒ روایت کرتے ہیں:
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ
بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: ثَنَا مُهَنَّى، قَالَ: سَأَلْتُ أَحْمَدَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ
مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، قَالَ: هُوَ فَعَلَ بِالْمَدِينَةَ مَا فَعَلَ؟
قُلْتُ: وَمَا فَعَلَ؟ قَالَ: قَتَلَ بِالْمَدِينَةِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ
صلى الله عليه وسلم وَفَعَلَ، قُلْتُ: وَمَا فَعَلَ؟ قَالَ: نَهَبَهَا، قُلْتُ: فَيُذْكَرُ
عَنْهُ الْحَدِيثُ؟ قَالَ: لَا يُذْكَرُ عَنْهُ الْحَدِيثُ، وَلَا يَنْبَغِي
لِأَحَدٍ أَنْ يَكْتُبَ عَنْهُ حَدِيثًا، قُلْتُ لِأَحْمَدَ: وَمَنْ كَانَ مَعَهُ
بِالْمَدِينَةِ حِينَ فَعَلَ مَا فَعَلَ؟ قَالَ: أَهْلُ الشَّامِ؟ قُلْتُ لَهُ:
وَأَهْلُ مِصْرَ، قَالَ: لَا، إِنَّمَا كَانَ أَهْلُ مِصْرَ مَعَهُمْ فِي أَمْرِ
عُثْمَانَ رَحِمَهُ اللَّهُ»
محمد بن علی نے مجھے
خبر دی، انہوں نے کہا: ہمیں مہنّا نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے امام احمد سے
یزید بن معاویہ بن ابی سفیان کے بارے میں پوچھا۔
امام احمد نے فرمایا:
اس نے مدینہ کے ساتھ وہ کچھ کیا جو کیا۔ میں نے کہا: اس نے کیا کیا؟ امام احمد نے
فرمایا: اس نے مدینہ میں نبی ﷺ کے اصحاب میں سے لوگوں کو قتل کیا، اور بھی بہت کچھ
کیا۔ میں نے کہا: اور کیا کیا؟ امام احمد نے فرمایا: اس نے مدینہ کو لوٹا۔
میں نے کہا: تو کیا اس
سے حدیث بیان کی جائے گی؟ امام احمد نے فرمایا: اس سے حدیث بیان نہیں کی جائے گی،
اور کسی کے لیے مناسب نہیں کہ اس سے کوئی حدیث لکھے۔
میں نے امام احمد سے
کہا: جب اس نے مدینہ میں وہ کچھ کیا جو کیا، اس وقت اس کے ساتھ کون لوگ تھے؟ امام
احمد نے فرمایا: اہلِ شام۔ میں نے کہا: اور اہلِ مصر؟ امام احمد نے فرمایا: نہیں،
اہلِ مصر تو صرف عثمان رحمہ اللہ کے معاملے میں ان کے ساتھ تھے۔
(السنة
للخلال: 845، وإسناده صحيح)
اس
روایت سے امام احمد رحمہ اللہ کا موقف صاف واضح ہوتا ہے کہ وہ واقعۂ حرہ میں اہلِ
مدینہ کے ساتھ ہونے والے ظلم، قتل اور لوٹ مار کو یزید کے باب میں نہایت سنگین جرم
سمجھتے تھے۔ امام احمد نے اسے ایک تاریخی واقعہ کے طور پر محض نقل نہیں کیا، بلکہ
یزید کے بارے میں سوال کے جواب میں اسی واقعہ کو اس کی مذمت کے طور پر پیش کیا۔
پھر اسی بنیاد پر یزید سے حدیث لینے کو بھی نامناسب قرار دیا۔
یہاں
یہ کہنا درست نہیں کہ چونکہ ہمارے نزدیک واقعۂ حرہ کی بعض تفصیلات کی اسانید محلِ
بحث ہیں، اس لیے امام احمد کا یہ موقف بھی ناقابلِ اعتبار ہے۔ یہاں اصل بحث یہ
نہیں کہ ہر تاریخی جزئیہ کس سند سے ثابت ہے، بلکہ بحث یہ ہے کہ امام احمد رحمہ
اللہ خود یزید کے بارے میں کیا موقف رکھتے تھے۔ جب امام احمد جیسے امام، جو خود جرح و تعدیل اور علل کے اکابر ائمہ میں سے
ہیں، یزید کے بارے میں واقعۂ حرہ کو بطورِ نکیر ذکر کرتے ہیں، تو ان کے موقف کی
نسبت میں اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
اس
روایت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ امام احمد کے نزدیک یزید کا کردار ایسا نہیں تھا کہ
اسے روایتِ حدیث کے باب میں قابلِ اعتماد یا قابلِ ذکر سمجھا جائے۔ ان کا یہ
فرمان: "لا يذكر عنه الحديث، ولا ينبغي لأحد
أن يكتب عنه حديثا" واضح طور پر یزید
کی مذمت اور اس کی روایت سے احتراز پر دلالت کرتا ہے۔
اس
پہلو کی تفصیل آگے مستقل عنوان کے تحت آئے گی۔
3- یزید پر
لعنت کے بارے میں امام احمدؒ کا قول
امام
ابو بکر الخلال رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں:
"َأخْبَرَنِي
أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَطَرٍ، وَزَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، أَنَّ أَبَا
طَالِبٍ حَدَّثَهُمْ قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ: مَنْ قَالَ: لَعَنَ
اللَّهُ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ؟ قَالَ: لَا أَتَكَلَّمُ فِي هَذَا "،
قُلْتُ: مَا تَقُولُ؟ فَإِنَّ الَّذِي تَكَلَّمَ بِهِ رَجُلٌ لَا بَأْسَ بِهِ،
وَأَنَا صَائِرٌ إِلَى قَوْلِكَ. قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ: قَالَ النَّبِيُّ
صلى الله عليه وسلم: «لَعْنُ الْمُؤْمِنِ كَقَتْلِهِ» وَقَالَ: «خَيْرُ النَّاسِ
قَرْنِي، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ» ، وَقَدْ صَارَ يَزِيدُ فِيهِمْ، وَقَالَ:
«مَنْ لَعَنْتَهُ أَوْ سَبَبْتَهُ فَاجْعَلْهَا لَهُ رَحْمَةً» ، فَأَرَى
الْإِمْسَاكَ أَحَبُّ لِي"
احمد بن محمد بن مطر
اور زکریا بن یحییٰ نے مجھے خبر دی کہ ابو طالب نے ان سے بیان کیا، انہوں نے کہا:
میں نے ابو عبد اللہ،
یعنی امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ، سے پوچھا: اس شخص کے بارے میں کیا حکم ہے جو
کہتا ہے: "اللہ یزید بن معاویہ پر لعنت کرے"؟
امام احمد نے فرمایا: میں
اس مسئلے میں کوئی بات نہیں کرتا۔ میں نے کہا: آپ کیا فرماتے ہیں؟ کیونکہ جس
شخص نے یہ بات کہی ہے وہ کوئی برا آدمی نہیں ہے، اور میں آپ کے قول ہی کی طرف رجوع
کروں گا۔
ابو عبد اللہ، یعنی
امام احمد، نے فرمایا: نبی ﷺ نے فرمایا ہے: "مومن پر لعنت کرنا اسے قتل کرنے
کی طرح ہے۔" اور آپ ﷺ نے فرمایا: "سب سے بہترین لوگ میرے زمانے کے لوگ
ہیں، پھر وہ جو ان کے بعد آئیں گے۔" اور یزید بھی انہی لوگوں کے زمانے میں
آتا ہے۔ اور آپ ﷺ نے فرمایا: "جس پر میں لعنت کروں یا جسے برا کہوں، تو اے
اللہ! اسے اس کے لیے رحمت بنا دے۔" پس میرے نزدیک خاموش
رہنا زیادہ پسندیدہ ہے۔
(السنة
للخلال: 846، وإسناده صحيح)
روایت سے
اصل نتیجہ
اس روایت سے امام احمد رحمہ اللہ کا
موقف صاف واضح ہوتا ہے کہ وہ یزید کے افعال کی مذمت اور اس پر نکیر کے باوجود معین
طور پر اس پر لعنت کرنے کو اپنا منہج نہیں بناتے تھے۔ ان کے نزدیک اس باب میں احتیاط،
سکوت اور امساک زیادہ پسندیدہ تھا۔
دعویٰٔ
رجوع کی کمزوری
بعض لوگ اس روایت کو امام احمد رحمہ
اللہ کے یزید سے متعلق سابقہ اقوال سے رجوع باور کراتے ہیں، حالانکہ یہ محض بے
بنیاد دعویٰ، علمی خیانت، اور امام احمد کے موقف کی صریح تحریف ہے۔ امام احمد نے
یہاں یزید کی مذمت سے رجوع نہیں کیا، بلکہ صرف معین لعنت کے باب میں امساک کو پسند
فرمایا ہے؛ لہٰذا اسے رجوع کہنا امام احمد کے کلام کو اس کے محل سے ہٹا کر اپنے
باطل مدعا کے لیے استعمال کرنا ہے۔
رجوع ثابت
ہونے کی شرائط
رجوع اس وقت مانا جاتا ہے جب تین
باتیں ثابت ہوں:
·
دونوں
اقوال میں حقیقی تعارض ہو۔
·
بعد
والے قول کا زمانی تاخر ثابت ہو۔
·
بعد
والا قول پہلے موقف کے ترک یا نسخ پر واضح دلالت کرے۔
یہاں یہ تینوں چیزیں موجود نہیں۔ امام
احمد کا ایک قول یہ ہے کہ یزید نے اہلِ مدینہ کے ساتھ ظلم کیا، مدینہ کو لوٹا،
صحابہ کو قتل کیا، اور اس سے حدیث نہ لی جائے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ معین طور پر "لعن
الله يزيد" کہنے میں امساک بہتر ہے۔ ان دونوں میں کوئی تعارض نہیں۔ ایک قول
یزید کے افعال کی مذمت اور اس کی عدالت پر قدح سے متعلق ہے، جبکہ دوسرا قول معین
مسلمان پر لعنت کرنے کے شرعی ادب اور احتیاط سے متعلق ہے۔ مذمتِ افعال اور ترکِ
لعنِ معین دو الگ باب ہیں؛ ایک کو دوسرے کا رجوع بنا دینا علمی خیانت نہیں تو کم
از کم سخت علمی غفلت ضرور ہے۔
حدیث "خير الناس قرني" کا
صحیح محل
بعض حضرات امام احمدؒ کے قول میں وارد
حدیث "خير الناس قرني ثم الذين يلونهم"
سے یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ امام احمدؒ یزید کو خیر القرون کی فضیلت کا مستحق
سمجھتے تھے، اس لیے گویا وہ یزید کے بارے میں اپنے سابق موقف سے رجوع کر چکے تھے۔
یہ استدلال محلِ بحث سے ہٹا ہوا ہے؛ کیونکہ امام احمدؒ نے یہ حدیث یزید کی مدح،
تزکیہ یا فضیلت ثابت کرنے کے لیے نہیں، بلکہ صرف معین لعنت کے باب میں احتیاط اور
امساک کی تائید کے لیے ذکر فرمائی۔ سوال بھی "لعن الله يزيد" کہنے والے کے
بارے میں تھا، اور جواب کا خلاصہ بھی یہی تھا: "فأرى
الإمساك أحب لي" یعنی میرے نزدیک خاموش رہنا
زیادہ پسندیدہ ہے۔
اس کی واضح دلیل یہ ہے کہ امام احمد رحمہ اللہ نے یہاں
صرف "خير الناس قرني"
والی حدیث ذکر نہیں کی، بلکہ لعنت اور سبّ
کے باب سے متعلق تین احادیث کو ایک ساتھ پیش کیا:
1. "لعن
المؤمن كقتله"
مومن پر لعنت کرنا اسے قتل کرنے کی طرح ہے۔
2. "خير
الناس قرني ثم الذين يلونهم"
بہترین لوگ میرے زمانے کے لوگ ہیں، پھر وہ جو ان کے بعد
ہیں۔
3. "من
لعنته أو سببته فاجعلها له رحمة"
جس پر میں لعنت کروں یا جسے برا کہوں، اے اللہ! اسے اس
کے لیے رحمت بنا دے۔
ان میں تیسری حدیث خاص طور پر فیصلہ
کن ہے، کیونکہ اسے یزید کی فضیلت یا تزکیہ کے لیے کسی صورت دلیل نہیں بنایا جا
سکتا۔ یزید نہ نبی ﷺ کا مخاطب تھا، نہ اس پر نبی ﷺ کی کوئی معین لعنت یہاں زیرِ
بحث ہے، اور نہ یہ حدیث یزید جیسے افراد کی مدح کے لیے وارد ہوئی ہے۔ پس امام احمد
رحمہ اللہ کا مقصد یہ نہیں تھا کہ "یزید اچھا ہے"، بلکہ مقصد یہ تھا کہ
لعنت کے باب میں زبان کو بے قابو نہیں چھوڑنا چاہیے، خصوصاً جب معاملہ قرونِ اولیٰ
کے کسی معین شخص سے متعلق ہو۔ لعنت ایک نہایت سنگین شرعی معاملہ ہے؛ اسی لیے امام
احمد نے وہ احادیث ذکر کیں جن میں لعنت اور سبّ کے باب میں احتیاط کی طرف اشارہ
ہے۔
اسی سیاق سے "خير
الناس قرني" والی حدیث کا صحیح محل بھی واضح ہو
جاتا ہے۔ امام احمد رحمہ اللہ نے اسے یزید کی شخصی فضیلت، عدالت یا دیانت ثابت
کرنے کے لیے نہیں، بلکہ قرونِ اولیٰ کے لوگوں کے بارے میں عمومی احتیاط کے اصول
کے طور پر ذکر کیا ہے۔ یعنی جب مسئلہ کسی معین شخص پر لعنت کا ہو، خاص طور پر وہ
شخص جو قرونِ اولیٰ کے زمانے میں آتا ہو، تو زبان روکنا زیادہ بہتر ہے۔ اس کا یہ
مطلب ہرگز نہیں کہ اس شخص کے ظلم، فسق، یا جرائم کا انکار کیا جائے۔
لہٰذا جو لوگ "خير
الناس قرني" سے یہ ثابت کرتے ہیں کہ امام احمد
رحمہ اللہ نے یزید کی تعریف کی، یا اس کے بارے میں اپنے سابقہ اقوال سے رجوع کر
لیا، ان کا استدلال سیاق کے صریح خلاف ہے۔ اگر امام احمد رحمہ اللہ کی مراد یزید
کی مدح ہوتی تو وہ صاف فرماتے کہ یزید نیک، صالح، محبوب یا قابلِ مدح ہے؛ یا
واقعۂ حرہ کے بارے میں اپنے سابق کلام کی تردید کرتے؛ یا یزید سے حدیث لینے کی
اجازت دیتے۔ لیکن انہوں نے ایسا کچھ نہیں فرمایا۔ اس کے برعکس ان سے صراحتاً ثابت
ہے کہ انہوں نے یزید کے فعلِ مدینہ کو اس کی مذمت میں ذکر کیا، اس سے حدیث لکھنے
کو نامناسب کہا، اور یزید سے محبت کے دعوے کو ایمان باللہ واليوم الآخر کے شایانِ
شان نہیں سمجھا۔
پس صحیح بات یہی ہے کہ "خير
الناس قرني" والی حدیث سے امام احمد رحمہ اللہ
نے یزید کی فضیلت نہیں، بلکہ لعنِ معین کے باب میں احتیاط ثابت کی ہے۔ امام احمد
کا مکمل موقف یہ ہے کہ یزید مذموم ہے، اس کے افعال قابلِ نکیر ہیں، اس سے محبت و
تولیٰ درست نہیں، لیکن معین لعنت کے باب میں امساک بہتر ہے۔
بعد کے
حنابلہ کی توضیح
اگر یہ روایت امام احمدؒ کا رجوع ہوتی
تو بعد کے حنابلہ اور محققین اسے اسی طرح بیان کرتے۔ لیکن کسی معتبر امام نے یہ
نہیں کہا کہ امام احمدؒ نے یزید کی مذمت والے موقف سے رجوع کر لیا تھا۔ ابن تیمیہ،
ابن مفلح اور دیگر ائمہ نے امام احمدؒ کے اقوال کو جمع کیا اور یہی نتیجہ بیان کیا
کہ یزید سے محبت نہیں کی جائے گی، مگر اسے گالی اور معین لعنت کا معمول بھی نہیں
بنایا جائے گا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک امام احمدؒ کے اقوال متعارض
نہیں، بلکہ ایک ہی متوازن موقف کے مختلف پہلو ہیں۔
"الإمساك أحب لي" کا
مفہوم اور امام احمد کے دونوں پہلوؤں کی تطبیق
ابو طالب نے جب امام احمد رحمہ اللہ
سے یزید پر لعنت کرنے والے کے بارے میں سوال کیا تو امام احمد نے پہلے جواب میں
فرمایا: "لا أتكلم في هذا"
یعنی میں اس مسئلے میں کلام نہیں کرتا۔ یہ جواب خود قابلِ غور ہے۔ اگر امام احمد
رحمہ اللہ کے نزدیک یزید بالکل قابلِ مذمت نہ ہوتا، یا وہ اس کی عدالت و دیانت کے
قائل ہوتے، تو لعنت کے سوال پر محض سکوت اختیار نہ فرماتے، بلکہ صراحت سے یزید کا
دفاع کرتے، اس کی مدح بیان کرتے، یا کم از کم لعنت کرنے والے کی واضح تردید کرتے۔
لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا، بلکہ پہلے مرحلے میں کلام ہی سے توقف فرمایا۔
پھر جب ابو طالب نے اصرار کیا اور کہا
کہ میں آپ ہی کے قول کی طرف رجوع کروں گا، تو امام احمد رحمہ اللہ نے چند احادیث
ذکر فرمائیں: مسلمان پر لعنت کرنا اسے قتل کرنے کی طرح ہے، یزید خیر القرون کے
زمانے میں آتا ہے، اور نبی ﷺ نے اپنے سبّ و لعن کو متعلقہ شخص کے لیے رحمت بنا
دینے کی دعا فرمائی ہے۔ ان احادیث کو ذکر کرنے کے بعد امام احمد نے نتیجہ یہ
نکالا: "فأرى الإمساك أحب لي"
یعنی میرے نزدیک خاموش رہنا زیادہ پسندیدہ ہے۔
یہ الفاظ صاف بتاتے ہیں کہ امام احمد
رحمہ اللہ یہاں یزید کا دفاع، اس کی عدالت، اس کی محبت یا اس کی فضیلت ثابت نہیں
کر رہے، بلکہ صرف معین لعنت کے باب میں زبان روکنے کو بہتر قرار دے رہے ہیں۔ "الإمساك
أحب لي" کا مطلب یہ نہیں کہ یزید پاک دامن
یا قابلِ مدح ہے؛ بلکہ مطلب یہ ہے کہ اس جیسے مذموم شخص کے بارے میں بھی معین لعنت
کو زبان کا معمول بنانے کے بجائے سکوت اور احتیاط امام احمد کے نزدیک بہتر ہے۔
یہیں سے امام احمد رحمہ اللہ کے اقوال
کو جمع کرنے کا درست طریقہ بھی واضح ہو جاتا ہے۔ یزید پر امام احمد کی قدح اپنی
جگہ قائم ہے، اور معین لعنت سے امساک کا قول اپنی جگہ قائم ہے۔ پہلے پہلو کا تعلق
یزید کے ظلم، فسق، واقعۂ حرہ، اور روایتِ حدیث میں اس کے عدمِ اعتبار سے ہے؛ جبکہ
دوسرے پہلو کا تعلق لعنِ معین میں شرعی احتیاط سے ہے۔ ان دونوں کو باہم متعارض
سمجھنا درست نہیں، کیونکہ کسی شخص کے افعال کو مذموم کہنا اور اس پر معین لعنت سے
رکنا دو الگ باب ہیں۔
لہٰذا اس روایت سے نہ یزید کی مدح
ثابت ہوتی ہے، نہ امام احمد رحمہ اللہ کا اپنے سابقہ موقف سے رجوع، اور نہ ان کے
دیگر اقوال کی تردید۔ اس سے صرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ امام احمد رحمہ اللہ یزید کو
محبوب، صالح، ولی یا قابلِ دفاع نہیں سمجھتے تھے؛ اس کے افعال کو سخت مذموم جانتے
تھے؛ اس سے حدیث لینے کو مناسب نہیں سمجھتے تھے؛ لیکن معین لعنت کے باب میں امساک
اور احتیاط کو بہتر قرار دیتے تھے۔ یہی اہلِ سنت کا متوازن منہج ہے: ظلم کو ظلم
کہا جائے، ظالم کی محبت و تولیٰ نہ رکھی جائے، مگر زبان کو شرعی حدود سے آگے نہ
بڑھایا جائے۔
4- یزید سے
روایتِ حدیث لینے کے بارے میں امام احمد کا قول
اوپر امام الخلال کی روایت گزر چکی ہے
جس میں مہنّا نے امام احمد سے پوچھا:
قُلْتُ: فَيُذْكَرُ عَنْهُ الْحَدِيثُ؟ قَالَ: لَا يُذْكَرُ
عَنْهُ الْحَدِيثُ، وَلَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَكْتُبَ عَنْهُ حَدِيثًا.
میں نے کہا: تو کیا اس سے حدیث بیان کی جائے گی؟ امام احمد نے
فرمایا: اس سے حدیث بیان نہیں کی جائے گی، اور کسی کے لیے مناسب نہیں کہ اس سے
کوئی حدیث لکھے۔
(السنة للخلال: 845، وإسناده صحيح)
اسی معنی کو امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ
نے بھی امام احمد سے نقل کیا ہے:
وَرُوِيَ عَنْهُ قِيلَ لَهُ: أَتَكْتُبُ الْحَدِيثَ عَنْ
يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ؟ فَقَالَ: لَا، وَلَا كَرَامَةَ، أَوَلَيْسَ هُوَ
الَّذِي فَعَلَ بِأَهْلِ الْمَدِينَةِ مَا فَعَلَ؟
امام احمد سے روایت کیا گیا کہ ان سے پوچھا گیا: کیا آپ یزید
بن معاویہ سے حدیث لکھیں گے؟ انہوں نے فرمایا: نہیں، ہرگز نہیں؛ کیا یہ وہی نہیں
جس نے اہلِ مدینہ کے ساتھ وہ کچھ کیا جو کیا؟
اس کے بعد ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے
ہیں:
فَيَزِيدُ عِنْدَ عُلَمَاءِ أَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ مَلِكٌ
مِنَ الْمُلُوكِ، لَا يُحِبُّونَهُ مَحَبَّةَ الصَّالِحِينَ وَأَوْلِيَاءِ
اللَّهِ، وَلَا يَسُبُّونَهُ، فَإِنَّهُمْ لَا يُحِبُّونَ لَعْنَةَ الْمُسْلِمِ
الْمُعَيَّنِ.
پس یزید ائمۂ مسلمین کے نزدیک بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ
ہے۔ وہ اس سے صالحین اور اولیاء اللہ جیسی محبت نہیں کرتے، اور نہ اسے گالی دیتے
ہیں، کیونکہ وہ کسی معین مسلمان پر لعنت کو پسند نہیں کرتے۔
(مجموع
الفتاوی: 3/412)
یہاں امام احمد کا مقصد صرف یہ نہیں
کہ یزید سے کوئی حدیث منقول نہیں، بلکہ ان کا کلام مذمت کے سیاق میں ہے۔ انہوں نے
یزید سے روایت نہ لینے کی وجہ کے طور پر واقعۂ حرہ کا ذکر کیا۔ اس سے معلوم ہوا
کہ امام احمد کے نزدیک یزید کی عدالت و دیانت ایسی نہ تھی کہ اسے راویِ حدیث کے
طور پر قابلِ قبول سمجھا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ بعد کے ائمہ نے بھی امام احمد کے اس
قول کو یزید کی حدیثی حیثیت کے باب میں نقل کیا۔
5- یزید سے
محبت کے بارے میں امام احمد کا قول
امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ امام احمد
سے نقل کرتے ہیں:
قَالَ صَالِحُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ: قُلْتُ لِأَبِي:
إِنَّ قَوْمًا يَقُولُونَ: إِنَّهُمْ يُحِبُّونَ يَزِيدَ. قَالَ: يَا بُنَيَّ،
وَهَلْ يُحِبُّ يَزِيدَ أَحَدٌ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ؟
فَقُلْتُ: يَا أَبَتِ، فَلِمَاذَا لَا تَلْعَنُهُ؟ قَالَ: يَا بُنَيَّ، وَمَتَى
رَأَيْتَ أَبَاكَ يَلْعَنُ أَحَدًا؟
صالح بن احمد بن حنبل کہتے ہیں: میں نے اپنے والد سے کہا: کچھ
لوگ کہتے ہیں کہ وہ یزید سے محبت کرتے ہیں۔ امام احمد نے فرمایا: اے میرے بیٹے!
کیا اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والا کوئی شخص یزید سے محبت کر سکتا ہے؟
میں نے کہا: ابا جان! پھر آپ اس پر لعنت کیوں نہیں کرتے؟ امام احمد نے فرمایا: اے
میرے بیٹے! تم نے اپنے باپ کو کب کسی پر لعنت کرتے دیکھا ہے؟
(مجموع الفتاوی: 3/412)
اس قول سے امام احمد کا موقف نہایت
واضح ہو جاتا ہے۔ وہ یزید سے محبت کو اہلِ ایمان کے شایانِ شان نہیں سمجھتے تھے،
لیکن اس کے باوجود اس پر لعنت کو اپنا طریقہ نہیں بناتے تھے۔ پس امام احمد کے
نزدیک یزید سے محبت، تولیٰ اور دفاع درست نہیں؛ البتہ معین لعنت سے احتراز بہتر
ہے۔
امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اس روایت
کو ثابت اور امام احمد کا منصوص موقف قرار دیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں:
فَالثَّابِتُ عَنْهُ مِنْ رِوَايَةِ
ابْنِهِ صَالِحٍ أَنَّهُ قَالَ...
پس امام احمد سے ان کے بیٹے صالح کی روایت سے ثابت یہ ہے کہ
انہوں نے فرمایا...
(المنتقى من منهاج الاعتدال، ص: 291)
اور ایک جگہ فرماتے ہیں:
فَالْمَنْصُوصُ الثَّابِتُ عَنْهُ مِنْ رِوَايَةِ
صَالِحٍ أَنَّهُ قَالَ...
پس صالح کی روایت سے امام احمد کا منصوص اور ثابت قول یہ ہے
کہ انہوں نے فرمایا۔۔۔
(منهاج السنة النبوية: 4/573)
بعض حضرات یہ غلط فہمی پیدا کرتے ہیں
کہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے صالح والی روایت کو غیر ثابت اور منقطع کہا ہے، حالانکہ
یہ بات مطلقاً درست نہیں۔ ابن تیمیہ نے صالح والی روایت کے اس ثابت حصے کو متعدد
مقامات پر بطورِ حجت نقل کیا ہے جس میں امام احمد یزید کی محبت کا انکار کرتے ہیں
اور لعنت سے احتراز کرتے ہیں۔ البتہ اس روایت کا ایک زائد حصہ، جس میں امام احمد
سے یزید پر لعنت کے لیے آیت سے استدلال منقول ہے، ابن تیمیہ کے نزدیک ثابت نہیں۔
وہ زائد حصہ یہ ہے:
فَقَالَ: وَكَيْفَ لَا أَلْعَنُ مَنْ لَعَنَهُ اللَّهُ فِي
كِتَابِهِ؟ فَقُلْتُ: وَأَيْنَ لَعَنَ يَزِيدَ؟ فَقَالَ: فِي قَوْلِهِ تَعَالَى:
{فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِنْ تَوَلَّيْتُمْ أَنْ تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ
وَتُقَطِّعُوا أَرْحَامَكُمْ أُولَئِكَ الَّذِينَ لَعَنَهُمُ اللَّهُ...}
یہی زائد حصہ ہے جسے ابن تیمیہ رحمہ
اللہ نے غیر ثابت اور منقطع قرار دیا۔ لیکن روایت کا پہلا حصہ، یعنی یزید کی محبت
کا انکار اور لعنت سے احتراز، ابن تیمیہ کے نزدیک ثابت اور منصوص ہے، اور کئی
مقامات پر انہوں نے اس سے استدلال کیا ہے۔
(دیکھیں: المنتقى من منهاج الاعتدال: ص 291،
کتاب رأس الحسين: ص 205، ومجموع الفتاوی: 3/412، 4/483، 27/478، ومنہاج السنہ:
4/573)
نیز امام احمد کے دیگر اقوال بھی اسی
موقف کی تائید کرتے ہیں۔
یزید کے
بارے میں امام احمد کا موقف دیگر ائمہ کے نزدیک
اب دیکھنا یہ ہے کہ بعد کے ائمہ نے
امام احمد رحمہ اللہ کے ان اقوال کو کیسے سمجھا۔
1- شیخ
الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ
ابن تیمیہ رحمہ اللہ یزید کے بارے میں
تین اقوال ذکر کرتے ہیں، پھر تیسرے قول کو اہلِ سنت کا معتدل موقف قرار دیتے ہوئے
فرماتے ہیں:
وَالْقَوْلُ الثَّالِثُ: أَنَّهُ كَانَ مَلِكًا مِنْ مُلُوكِ
الْمُسْلِمِينَ، لَهُ حَسَنَاتٌ وَسَيِّئَاتٌ، وَلَمْ يُولَدْ إِلَّا فِي
خِلَافَةِ عُثْمَانَ، وَلَمْ يَكُنْ كَافِرًا؛ وَلَكِنْ جَرَى بِسَبَبِهِ مَا
جَرَى مِنْ مَصْرَعِ الْحُسَيْنِ، وَفَعَلَ مَا فَعَلَ بِأَهْلِ الْحَرَّةِ،
وَلَمْ يَكُنْ صَاحِبًا وَلَا مِنْ أَوْلِيَاءِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، وَهَذَا
قَوْلُ عَامَّةِ أَهْلِ الْعَقْلِ وَالْعِلْمِ وَالسُّنَّةِ وَالْجَمَاعَةِ. ثُمَّ
افْتَرَقُوا ثَلَاثَ فِرَقٍ: فِرْقَةٌ لَعَنَتْهُ، وَفِرْقَةٌ أَحَبَّتْهُ،
وَفِرْقَةٌ لَا تَسُبُّهُ وَلَا تُحِبُّهُ، وَهَذَا هُوَ الْمَنْصُوصُ عَنْ
الْإِمَامِ أَحْمَدَ، وَعَلَيْهِ الْمُقْتَصِدُونَ مِنْ أَصْحَابِهِ وَغَيْرِهِمْ
مِنْ جَمِيعِ الْمُسْلِمِينَ.
تیسرا قول یہ ہے کہ یزید مسلمانوں کے بادشاہوں میں سے ایک
بادشاہ تھا، اس کی نیکیاں بھی تھیں اور برائیاں بھی۔ وہ عثمان رضی اللہ عنہ کی
خلافت ہی میں پیدا ہوا، کافر نہیں تھا؛ لیکن اس کے سبب حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت
کا واقعہ پیش آیا، اور اس نے اہلِ حرہ کے ساتھ جو کچھ کیا وہ کیا۔ وہ صحابی نہیں
تھا، نہ اللہ کے صالح اولیاء میں سے تھا۔ یہی عام اہلِ عقل، اہلِ علم، اہلِ سنت
والجماعت کا قول ہے۔ پھر اس موقف کے حاملین تین گروہوں میں تقسیم ہوئے: ایک گروہ
نے اس پر لعنت کی، ایک گروہ نے اس سے محبت کی، اور ایک گروہ نہ اسے گالی دیتا ہے
نہ اس سے محبت کرتا ہے۔ یہی امام احمد سے منصوص ہے، اور ان کے اصحاب اور دیگر
مسلمانوں میں سے معتدل لوگ اسی پر ہیں۔
(مجموع
الفتاوی: 4/483)
اسی طرح ایک مقام پر امام احمد کا قول
نقل کرنے کے بعد ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
فَيَزِيدُ عِنْدَ عُلَمَاءِ أَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ مَلِكٌ
مِنَ الْمُلُوكِ، لَا يُحِبُّونَهُ مَحَبَّةَ الصَّالِحِينَ وَأَوْلِيَاءِ
اللَّهِ، وَلَا يَسُبُّونَهُ، فَإِنَّهُمْ لَا يُحِبُّونَ لَعْنَةَ الْمُسْلِمِ
الْمُعَيَّنِ.
پس یزید ائمۂ مسلمین کے نزدیک بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ
ہے۔ وہ اس سے صالحین اور اولیاء اللہ جیسی محبت نہیں کرتے، اور نہ اسے گالی دیتے
ہیں، کیونکہ وہ کسی معین مسلمان پر لعنت کو پسند نہیں کرتے۔
(مجموع
الفتاوی: 3/412)
ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی توضیح سے صاف
معلوم ہوتا ہے کہ امام احمد کے نزدیک یزید نہ محبت کا مستحق ہے، نہ صالحین میں سے
ہے، نہ صحابی ہے، نہ اس کی تقدیس کی جائے گی؛ لیکن معین لعنت اور سب و شتم سے
احتیاط کی جائے گی۔
2- حافظ ابن
مفلح الحنبلی رحمہ اللہ
ابن مفلح حنبلی رحمہ اللہ نے الآداب
الشرعية میں امام احمد سے یزید کے بارے میں منقول
روایات کو جمع کیا۔ انہوں نے یزید سے حدیث نہ لینے، اہلِ مدینہ کے ساتھ اس کے فعل
کی مذمت، یزید سے محبت کے انکار، اور لعنت کے باب میں “الإمساك أحب إلي” والی
روایت ذکر کی۔ پھر ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی توضیح بھی نقل کی کہ امام احمد کا کلام
یزید کے فسق، ظلم اور مذمت پر دلالت کرتا ہے، لیکن اس سے لازماً معین لعنت ثابت
نہیں ہوتی۔
(الآداب الشرعية: 1/269)
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ابن مفلح کے
نزدیک امام احمد کا مجموعی موقف یہی ہے کہ یزید کی مذمت کی جائے گی، اس سے محبت
نہیں رکھی جائے گی، مگر معین لعنت کو امام احمد کا راجح منہج قرار نہیں دیا جائے
گا۔
3- حافظ
ابن حجر رحمہ اللہ
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے یزید کے
ترجمے میں اسے روایت کے لائق نہیں قرار دیا۔ وہ فرماتے ہیں:
لَيْسَ بِأَهْلٍ أَنْ يُرْوَى عَنْهُ.
وہ اس قابل نہیں کہ اس سے روایت لی جائے۔
(تقريب التهذيب: 7777)
اور لسان الميزان میں فرماتے ہیں:
مَقْدُوحٌ فِي عَدَالَتِهِ، وَلَيْسَ بِأَهْلٍ أَنْ يُرْوَى
عَنْهُ، وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ: لَا يَنْبَغِي أَنْ يُرْوَى عَنْهُ.
اس کی عدالت مجروح ہے، وہ اس قابل نہیں کہ اس سے روایت لی
جائے، اور امام احمد بن حنبل نے فرمایا: اس سے روایت نہیں لینی چاہیے۔
(لسان الميزان: 6/293)
یہ بعینہ امام احمد کے حدیثی موقف کی
تائید ہے کہ یزید کو راویِ حدیث کی حیثیت سے قابلِ اعتماد نہیں سمجھا جائے گا۔
حافظ ابن حجر نے امام احمد کے قول کو یزید کی عدالت پر جرح کے طور پر ذکر کیا ہے،
جو اس بات کی دلیل ہے کہ امام احمد کے نزدیک یزید محلِ قدح تھا۔
حاصلِ کلام
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے اقوال
اور ان کی تشریح کرنے والے ائمہ کے کلام سے یزید بن معاویہ کے بارے میں درج ذیل
امور ثابت ہوتے ہیں:
1- امام احمد کے نزدیک یزید کی بیعت ابتدا ہی
سے تمام اکابر صحابہ کے نزدیک متفق علیہ نہیں تھی۔ سیدنا حسین بن علی، سیدنا عبد
اللہ بن الزبیر اور سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہم نے معاویہ رضی اللہ عنہ
کی زندگی میں یزید کی بیعت نہیں کی۔
2- امام احمد کے نزدیک یزید کے افعال، خصوصاً
واقعۂ حرہ اور اہلِ مدینہ کے ساتھ اس کا معاملہ، شدید قابلِ مذمت تھا۔
3- امام احمد کے نزدیک یزید سے حدیث نہیں لی
جائے گی، کیونکہ اس کی عدالت و دیانت ایسی نہیں کہ اسے روایتِ حدیث میں قابلِ قبول
سمجھا جائے۔
4- امام احمد نے یزید سے محبت اور تولیٰ کا
صراحتاً انکار کیا، بلکہ فرمایا کہ اللہ اور آخرت پر ایمان رکھنے والا شخص یزید سے
محبت کیسے کر سکتا ہے؟
5- امام احمد کے نزدیک یزید صحابی، صالح، ولی،
یا محبوب شخصیت نہیں تھا۔ اسے صالحین اور اولیاء اللہ کی محبت کے درجے میں رکھنا
اہلِ سنت کا موقف نہیں۔
6- امام احمد نے یزید پر معین لعنت کو اپنا
منہج نہیں بنایا، بلکہ اس باب میں امساک اور احتیاط کو پسند کیا۔
7- امام احمد سے یزید کی تکفیر ثابت نہیں۔
اہلِ سنت کے معتدل موقف کے مطابق وہ مسلمانوں کے بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ تھا،
جس کے افعال میں سخت ظلم اور فسق پایا گیا، مگر اس کا آخری معاملہ اللہ کے سپرد
ہے۔
پس امام احمد رحمہ اللہ کا موقف یہ ہے
کہ یزید کی محبت و تولیٰ باطل ہے، اس کے افعال خصوصاً واقعۂ حرہ مذموم ہیں، اس کی
روایت قابلِ قبول نہیں، لیکن معین لعنت اور تکفیر میں احتیاط کی جائے گی۔ یہی موقف
افراط و تفریط سے پاک، اہلِ سنت کے ائمہ کا معتدل اور محققانہ موقف ہے۔
13/07/2026

Post a Comment