کیا امام وکیع بن جراح حنفی
المذہب تھے؟
بعض متاخر کتب اور بالخصوص بعض احناف کے حلقوں میں یہ دعویٰ دہرایا
جاتا ہے کہ امام وکیع بن الجراح رحمہ اللہ (المتوفی ۱۹۷ھ) حنفی المذہب تھے، اور اس
کی دلیل کے طور پر امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ کا وہ قول پیش کیا جاتا ہے جس میں
انہوں نے فرمایا کہ وکیع "ابو حنیفہ کے قول پر فتویٰ دیتے تھے" (يفتي بقول أبي
حنيفة)۔ زیرِ نظر مضمون میں اس دعوے کا تفصیلی، مدلل اور محدثین و اہلِ
سیر کے اقوال پر مبنی جائزہ لیا جائے گا، اور یہ ثابت کیا جائے گا کہ:
1- امام وکیع خود مجتہد و فقیہ تھے، کسی کی شخصی تقلید نہیں کرتے تھے۔
2- امام وکیع نے خود امام ابو حنیفہ پر نقد کیا ہے، بلکہ ان کے بعض
اقوال کو "بدعت" اور "اہلِ رائے کا قول" قرار دیا۔
3- ابن معین کا قول "يفتي بقول أبي حنيفة" جزوی ہے، کلی نہیں، اور
اس کی نظیر امام یحییٰ القطان کے بارے میں بھی موجود ہے جو خود ثوری مذہب پر تھے
بلکہ بالعموم کوفی مذہب پر تھے۔
4- وکیع اور قطان دونوں دراصل "مذہبِ کوفہ" یعنی اصحابِ
عبداللہ بن مسعود کے فقہی منہج پر تھے، اور ابو حنیفہ سے موافقت اسی وجہ سے تھی،
نہ کہ تقلیدِ شخصی کی بنا پر۔
5- وکیع کا ابو حنیفہ سے اختلاف، ان کا "اہلِ رائے" کو ایک
الگ اور مذموم گروہ کے طور پر ذکر کرنا، اور خود قیاس پر ان کی سخت تنقید — یہ سب
اس بات کی دلیل ہیں کہ ان کی نسبت ابو یوسف و امام محمد کی طرح "حنفیت"
سے کرنا درست نہیں۔
6- دوسری صدی ہجری کے مسلک پر بعد کی متعین فقہی مذہبی اصطلاحات کا
اطلاق ایک انکارِ تاریخی مغالطہ ہے۔
پہلا مبحث: امام وکیع کا مقام
بطور مجتہد و فقیہِ مستقل
جو شخص کسی دوسرے کی تقلید میں فتویٰ دیتا ہو، محدثین اس کی توصیف
"مجتہد"، "مفتی مستقل" یا "افقہ الناس" کے الفاظ سے
نہیں کرتے۔ لیکن امام وکیع کے بارے میں اہلِ علم کی شہادتیں اس کے برعکس ہیں۔
امام احمد بن عبداللہ العجلی نے ان کی توثیق میں فرمایا کہ وہ ثقہ،
عابد، صالح، ادیب، حفاظ حدیث میں سے اور خود مفتی تھے (ثقة، عابد، صالح،
أديب، من حفاظ الحديث، وكان مفتيا)۔ یہ الفاظ خود اس بات پر دلالت
کرتے ہیں کہ وکیع کا مقام ایک تابع فتویٰ دینے والے کا نہیں بلکہ خود ایک مستقل
مفتی کا تھا۔
اسی طرح ابراہیم بن شماس کہتے ہیں کہ میں نے وکیع سے بڑا فقیہ کوئی
نہیں دیکھا (رأيت أفقه الناس وكيعا)۔
اور امام ابن عمار الموصلی جیسے ناقد کا یہ کہنا کہ کوفہ میں وکیع
کے زمانے میں ان سے بڑا فقیہ اور حدیث کا عالم کوئی نہ تھا (ما كان بالكوفة في
زمان وكيع بن الجراح أفقه ولا أعلم بالحديث من وكيع)، اس بات کی صریح شہادت ہے کہ
وکیع کا فقہی مقام ایک آزاد و مستقل درجے کا تھا، نہ کہ کسی امام کے مقلد کا۔
یہ بات ذہن میں رہے کہ صحابہ و تابعین اور تبع تابعین کے دور میں،
خصوصاً دوسری صدی ہجری کے آغاز و وسط میں، فقہی مسالک ابھی اصطلاحی و مؤسساتی شکل
میں مدون نہیں ہوئے تھے۔ ہر بڑا محدث و فقیہ اپنے اجتہاد پر فتویٰ دیتا تھا، اگرچہ
بعض مسائل میں دوسرے اہلِ علم کی رائے سے موافقت بھی ہو جاتی۔ چنانچہ کسی ایک دو
مسائل میں کسی امام کی رائے سے موافقت کا مطلب "تقلیدِ شخصی" یا کسی
متعین "مذہب" کا پیرو ہونا ہرگز نہیں۔
❖ ❖ ❖
دوسرا مبحث: امام وکیع کا خود
امام ابو حنیفہ پر نقد
اگر وکیع واقعی حنفی المذہب ہوتے، تو ان سے امام ابو حنیفہ پر
تنقید — نہ صرف فقہی مسائل میں بلکہ خود ان کی روایتِ حدیث کی صداقت پر شک کے
انداز میں — کیونکر صادر ہوتی؟ ذیل میں چند نظائر ملاحظہ ہوں:
(الف) ابو حنیفہ
کی روایت پر تشکیک
امام ابن ابی حاتم نے اپنے والد امام ابو حاتم رازی سے، وہ امام
حمیدی سے، وہ امام وکیع سے نقل کرتے ہیں کہ وکیع نے کہا:
نا أبو حنيفة أنه سمع عطاء إن كان سمعه
"ابو حنیفہ نے ہم سے بیان کیا کہ انہوں نے عطاء سے سنا — اگر
واقعی سنا ہو۔"
ماخذ: الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم، ۱/۲۲۶؛ تاریخ بغداد
للخطیب، ۱۳/۴۲۵؛ سند صحیح
یہ ایک سخت قسم کی جرح ہے، کیونکہ اس میں امام ابو حنیفہ کے اپنے
دعوائے سماع کے باوجود وکیع ان کی صداقت پر شک ظاہر کر رہے ہیں — یہ اس شخص کا
اسلوب نہیں ہو سکتا جو کسی کا مقلد اور اس کی تعظیم میں غالی ہو۔
(ب) ابو حنیفہ کی
احادیث میں مخالفت کی
تعداد
پر تبصرہ
امام خطیب بغدادی سندِ صحیح کے ساتھ نقل کرتے ہیں کہ ابو السائب نے
کہا: میں نے وکیع کو یہ کہتے سنا:
وجدنا أبا حنيفة خالف مائتي حديث
"ہم نے ابو حنیفہ کو دو سو احادیث کی مخالفت کرتے پایا۔"
ماخذ: تاریخ بغداد، ۱۳/۴۰۷
اس قسم کا شمار و تبصرہ خود اس بات کی دلیل ہے کہ وکیع، ابو حنیفہ
کے فقہی مسلک کو تنقیدی نگاہ سے دیکھتے تھے، نہ کہ اس کی بے چون و چرا تقلید کرتے
تھے۔
(ج) اہلِ رائے کے
مقابلے میں فقہ الحدیث کی
برتری
پر وکیع کی صریح تصریح
امام وکیع کا ایک نہایت اہم اور صریح قول، جو خود انہی کی زبان سے
"اہلِ رائے" کے خلاف ایک منہجی موقف کی حیثیت رکھتا ہے، یوں مروی ہے:
يَا فِتْيَانُ تَفَهَّمُوا فِقْهَ الْحَدِيثِ، فَإِنَّكُمْ إِنْ
تَفَهَّمْتُمْ فِقْهَ الْحَدِيثِ لَمْ يَقْهَرْكُمْ أَهْلُ الرَّأْيِ
"اے نوجوانو! حدیث کی فقہ حاصل کر لو، کیونکہ اگر تم نے فقہِ
حدیث حاصل کر لی تو اہلِ رائے تم پر غالب نہیں آ سکتے۔"
ماخذ: الفقیہ والمتفقہ للخطیب، ۲/۱۶۱؛ نصیحۃ اہل الحدیث،
ص ۴۱؛ الطیوریات، ۶۱۰؛ سند صحیح
اس قول کی اہمیت کئی پہلوؤں سے نمایاں ہے:
1- وکیع نے یہاں "أهل الرأي" کا لفظ بصیغۂ غیر استعمال
کیا ہے — گویا وہ ایک مقابل، بیرونی گروہ ہے جس کے "غلبے" سے بچنے کی
تلقین کی جا رہی ہے۔ اگر وکیع خود اسی مکتب سے تعلق رکھتے، تو نوجوانوں کو اس گروہ
کے "غلبے" سے بچنے کی نصیحت کرنا اور اسے فقہِ حدیث کے مقابل ایک خطرہ
کے طور پر پیش کرنا سراسر بے معنی ہو جاتا۔
2- یہ قول "فقہِ حدیث" اور "اہلِ رائے" کو دو
متضاد اور باہم متصادم مناہج کے طور پر پیش کرتا ہے — جس میں فقہِ حدیث کو ذریعۂ
نجات و غلبہ اور اہلِ رائے کے منہج کو مغلوب کیے جانے کے لائق قرار دیا گیا ہے۔ یہ
بالکل اسی اصولی موقف کی تصدیق کرتا ہے جو اشعار کے واقعے میں "اشعار سنۃ
وقولھم بدعۃ" کی صورت میں ظاہر ہوا۔
3- یہ قول وکیع کی طرف سے نوجوان طلبہ کو ایک عمومی، اصولی نصیحت کے
طور پر دیا گیا ہے، نہ کہ کسی خاص فروعی مسئلے کے تناظر میں — جس سے معلوم ہوتا ہے
کہ اہلِ رائے کے منہج سے احتراز وکیع کے نزدیک ایک بنیادی، تعلیمی و منہجی اصول کا
درجہ رکھتا تھا، محض ایک آدھ مسئلے کی حد تک محدود رائے نہ تھی۔
چنانچہ یہ قول، اشعار کے واقعے کے ساتھ مل کر، اس بات کی دوہری
تصدیق کرتا ہے کہ امام وکیع کا رجحان "اہلِ رائے" کے مقابلے میں
"اہلِ حدیث و فقہِ حدیث" کی طرف تھا، اور وہ اپنے تلامذہ کو باقاعدہ اسی
منہج کی تربیت دیتے تھے — جو ان کی نسبت کو حنفی/اہلِ رائے مکتب کی بجائے محدثینِ
کوفہ کے مکتب سے واضح طور پر جوڑتا ہے۔
(د) اشعارِ ہدی
کے مسئلے میں کھلی مخالفت اور "بدعت" کا حکم
امام ترمذی نے اپنی سنن میں حدیثِ اشعار (قربانی کے جانور کو نشان
لگانے) کی روایت کے بعد نقل کیا ہے کہ یوسف بن عیسیٰ نے کہا: میں نے وکیع کو یہ
حدیث بیان کرتے وقت کہتے سنا:
لا تنظروا إلى قول أهل الرأي في هذا، فإن الإشعار سنة، وقولهم بدعة
"اس مسئلے میں اہلِ رائے کے قول کی طرف مت دیکھو، کیونکہ
اشعار سنت ہے اور ان کا قول بدعت ہے۔"
اور ابو السائب سے مروی ہے کہ وکیع کے پاس ایک صاحبِ رائے شخص نے
جب امام ابو حنیفہ کے قول (کہ اشعار مُثلہ یعنی جانور کو مُثلہ کرنا ہے) کی تائید
میں ابراہیم نخعی کا قول پیش کیا، تو:
فرأيت وكيعا غضب غضبا شديدا، وقال: أقول لك قال رسول الله صلى الله
عليه وسلم وتقول قال إبراهيم، ما أحقك بأن تحبس، ثم لا تخرج حتى تنزع عن قولك هذا
"میں نے وکیع کو سخت غضبناک دیکھا، انہوں نے فرمایا: میں تم
سے کہتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اور تم کہتے ہو کہ
ابراہیم نے کہا! تم اس لائق ہو کہ قید کر دیے جاؤ، جب تک اس قول سے رجوع نہ
کرو۔"
ماخذ: سنن ترمذی، حدیث ۹۰۶
اس واقعے سے تین اہم نکات ثابت ہوتے ہیں:
1- وکیع خود امام ابو حنیفہ کے قول کو صراحتاً سنت کے مقابل
"اہلِ رائے کا قول" اور "بدعت" قرار دیتے ہیں۔
2- وکیع کے نزدیک "اہلِ رائے" ایک الگ، اور بوقتِ تعارض سنت
کے، مذموم گروہ ہے — یہ خود اس بات کی دلیل ہے کہ وکیع خود کو اس گروہ سے الگ اور
اس پر ناقد سمجھتے تھے، نہ کہ اس کا ایک فرد۔
3- وکیع کا رد عمل اس قدر شدید ہے کہ وہ مخالف کے حبس (قید) تک کی بات
کرتے ہیں — یہ کسی مقلد کا اپنے متبوع امام کے بارے میں انداز نہیں ہو سکتا۔
یہ چاروں شواہد مجموعی طور پر اس بات کی قوی دلیل ہیں کہ امام وکیع
کا تعلق کسی متعین "حنفی مذہب" سے نہ تھا، بلکہ وہ ایک آزاد محدث و فقیہ
تھے جو حق کی موافقت میں کسی کی رائے قبول کرتے اور مخالفت میں اسے رد کر دیتے،
خواہ وہ رائے امام ابو حنیفہ ہی کی کیوں نہ ہو۔
اسی طرح امام وکیع اور امام ابو حنیفہ کے مابین بعض اعتقاد مسائل
میں اختلاف بھی معروف ہے۔ مثلاً مسئلۂ ایمان میں امام وکیع نے امام ابو حنیفہ کے
موقف کو جرأت و جسارت سے تعبیر کیا ہے، اور اس نوعیت کے دیگر اختلافات بھی اہلِ
علم کے ہاں مذکور ہیں۔
❖ ❖ ❖
تیسرا مبحث: ابن معین کے قول
"يفتي بقول
أبي
حنيفة" کی تحقیق — یہ قول کلی نہیں بلکہ جزوی ہے
اصل قول جس پر یہ دعویٰ قائم کیا جاتا ہے، امام ابن معین سے یوں
مروی ہے:
كان يستقبل القبلة ويحفظ حديثه ويقوم الليل ويسرد الصوم ويفتي بقول
أبي حنيفة، وكان قد سمع منه شيئا كثيرا. قال يحيى بن معين: وكان يحيى بن سعيد
القطان يفتي بقول أبي حنيفة أيضا
اس عبارت میں تین باتیں قابلِ غور ہیں:
(الف) اسی قول
میں یحییٰ بن سعید القطان کا بھی وہی حکم بیان ہوا ہے
ابن معین نے یہی جملہ امام یحییٰ القطان کے بارے میں بھی دہرایا
ہے: "وكان يحيى بن سعيد القطان يفتي بقول أبي حنيفة أيضا"۔ اگر اس جملے کا مطلب کلی تقلید
و انتساب ہوتا، تو لازم آتا کہ امام یحییٰ القطان — جو محدثین کے نزدیک نقدِ رجال
کے امام اور جرح و تعدیل کے پیشوا ہیں — بھی حنفی المذہب قرار پائیں، جو کہ کسی نے
نہیں کہا۔
(ب) خود امام
قطان کی اپنی وضاحت اس اطلاق کو جزوی ثابت کرتی ہے
امام یحییٰ القطان کا اپنا قول موجود ہے جس میں وہ خود اس معاملے
کی حقیقت بیان کرتے ہیں:
لا نكذب الله، ربما رأينا الشيء من رأي أبي حنيفة فاستحسناه فقلنا
به
"ہم اللہ کے بارے میں جھوٹ نہیں بولتے، بسا اوقات ہم ابو
حنیفہ کی رائے میں سے کوئی چیز دیکھتے، اسے مستحسن پاتے تو اسے اختیار کر
لیتے۔"
یہ قول خود اس بات کی صراحت ہے کہ معاملہ کلی اتباع کا نہیں بلکہ
بعض مستحسن آراء میں اتفاقِ نظر کا ہے — یعنی جہاں امام قطان کا اپنا اجتہاد ابو
حنیفہ کی رائے سے موافق ہو جاتا، وہاں وہ اسے اختیار کر لیتے، نہ یہ کہ وہ ابو
حنیفہ کے ہر قول کے پابند تھے۔
(ج) امام ابن
المدینی کی شہادت: قطان کا اصل مسلک "مذہبِ ثوری" تھا
امام علی بن المدینی، جو امام قطان کے خاص تلامذہ میں سے ہیں اور
ان کے علمی مسلک سے سب سے زیادہ باخبر تھے، فرماتے ہیں:
ومن بعد سفيان يحيى بن سعيد القطان كان يذهب مذهب سفيان الثوري
وأصحاب عبد الله
"سفیان (ثوری) کے بعد یحییٰ بن سعید القطان سفیان ثوری اور
اصحابِ عبداللہ (بن مسعود) کے مذہب پر تھے۔"
یہ عبارت نہایت واضح ہے: امام قطان کا مسلک نہ حنفی تھا، بلکہ وہ
سفیان ثوری اور اصحابِ عبداللہ بن مسعود (یعنی مکتبِ کوفہ) کے منہج پر تھے۔ اسی
مکتب سے امام ابو حنیفہ بھی وابستہ تھے، اس لیے بسا اوقات دونوں کی رائے یکجا ہو
جاتی — لیکن یہ موافقت مذہبی انتساب نہیں بلکہ مشترکہ علمی مصدر (اصحابِ عبداللہ
کی فقہ) کا نتیجہ تھی۔
چنانچہ جب امام ابن المدینی جیسے ثقہ اور قریبی شاگرد کی شہادت سے
یہ معلوم ہو جائے کہ قطان کا حقیقی مسلک "مذہبِ ثوری و اصحابِ عبداللہ"
تھا، تو ابن معین کے مذکورہ قول کو اس روشنی میں سمجھنا لازم ہے کہ وہ کلی تقلید
کی نفی اور جزوی موافقت کے اثبات کی طرف اشارہ ہے۔
(د) نتیجہ: وکیع
کے حق میں بھی وہی تاویل لازم
جب ایک ہی سیاق میں، ایک ہی جملے میں، وکیع اور قطان دونوں کے بارے
میں یہی الفاظ استعمال ہوئے ہیں، اور قطان کے بارے میں خود ان کی اور ان کے شاگرد
کی تصریحات سے یہ ثابت ہو چکا کہ معاملہ جزوی موافقت کا ہے نہ کہ کلی تقلید کا، تو
عقلاً و نقلاً یہی حکم وکیع پر بھی لاگو ہوگا۔ ایک ہی جملے کی دو مختلف تاویلیں
(ایک کے لیے "کلی تقلید"، دوسرے کے لیے "جزوی موافقت") قرینِ
انصاف نہیں۔
بلکہ خود امام ذہبی اور امام مبارکپوری کی تصریحات (جو آگے مذکور
ہوں گی) اس بات کی تائید کرتی ہیں کہ وکیع کے معاملے میں بھی یہ اطلاق ایک خاص
مسئلے تک محدود تھا، کلی نہیں۔
❖ ❖ ❖
چوتھا مبحث: کیا وکیع کا ابو
حنیفہ سے اختلاف ان کی "حنفیت" کی نفی نہیں کرتا؟— امام ابو یوسف و امام
محمد سے تقابل کا جائزہ
بعض حضرات یہ استدلال کرتے ہیں کہ جس طرح امام ابو یوسف اور امام
محمد بن الحسن الشیبانی رحمہما اللہ کا امام ابو حنیفہ سے بعض مسائل میں اختلاف ان
کی حنفیت کی نفی نہیں کرتا، اسی طرح وکیع کا اختلاف بھی ان کی (بزعمِ خود) حنفیت
کی نفی نہیں کرتا۔ یہ استدلال ظاہری طور پر معقول لگتا ہے، لیکن تحقیق سے اس میں
بنیادی فرق واضح ہو جاتا ہے۔
(الف) ابو یوسف و
امام محمد کا اختلاف اور وکیع کا اختلاف — نوعیت میں فرق
امام ابو یوسف اور امام محمد کا امام ابو حنیفہ سے اختلاف ایک ہی
مکتبِ فکر (اصولِ حنفیہ) کے اندر رہتے ہوئے، انہی کے متعین اصولِ استنباط (قیاس،
استحسان، وغیرہ) کو بروئے کار لاتے ہوئے تھا۔ وہ دونوں امام ابو حنیفہ کے باقاعدہ
شاگرد تھے، ان کے حلقۂ درس میں برسوں بیٹھے، انہی سے فقہ کے اصول سیکھے، اور جب
اختلاف کیا تو اسی مسلک کے اندر رہتے ہوئے، اسی منہجِ استدلال کے تحت کیا۔ ان کا
اختلاف مذہب کے اندر کا اجتہادی اختلاف ہے، مذہب سے خروج نہیں۔
اس کے برعکس، امام وکیع کا معاملہ بالکل مختلف ہے:
1- وکیع، ابو حنیفہ کے باقاعدہ تلمیذِ رشید کے طور پر معروف نہیں جس
طرح ابو یوسف و محمد معروف ہیں — بلکہ وکیع بنیادی طور پر امام سفیان الثوری کے
تلمیذ اور محدثِ کبیر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔
2- وکیع کا اختلاف کسی جزوی فرعی مسئلے میں نہیں بلکہ خود منہجِ
استدلال کی سطح پر ہے — وہ "اہلِ رائے" کے پورے منہج کو، جس سے ابو
حنیفہ اور ان کا مکتب پہچانا جاتا ہے، ایک الگ اور مذموم گروہ کے طور پر ذکر کرتے
ہیں: "لا تنظروا إلى قول أهل الرأي"۔ یہ کسی داخلی اختلاف کی زبان
نہیں بلکہ دو الگ الگ مناہج کے مابین تفریق کی زبان ہے۔
3- اہلِ رائے کے منہج کی بنیاد قیاس و رائے پر ہے، جبکہ وکیع خود قیاس
کے سخت ناقد ہیں (آگے ملاحظہ ہو)، لہٰذا وکیع کا "اہلِ رائے" سے اختلاف
اصولی و منہجی نوعیت کا ہے، نہ کہ فروعی۔
4- وکیع کا انداز، جیسا کہ اشعار کے مسئلے میں گزرا، سراسر تنقیدی اور
بسا اوقات مذمتی ہے (بدعت، مثلہ کے قول پر شدید غضب، حبس کی بات) — یہ کسی ہم مسلک
کی طرف سے دوسرے ہم مسلک کے ساتھ اختلاف کا انداز نہیں، بلکہ ایک بیرونی ناقد کا
انداز ہے۔
(ب) وکیع کا
"اہلِ رائے" کو الگ گروہ کے طور پر ذکر کرنا
یہ نکتہ نہایت اہم ہے: وکیع نے "اہلِ رائے" کا ذکر بصیغۂ
غیر کیا ہے — "لا تنظروا إلى قول أهل الرأي" (اہلِ رائے کے قول کی طرف مت
دیکھو) — گویا وہ خود کو اس گروہ سے خارج اور اس کا ناقد تصور کر رہے ہیں۔ اگر
وکیع خود حنفی المذہب اور اہلِ رائے میں سے ہوتے، تو یہ اسلوبِ کلام، جس میں اپنے
ہی مکتب کو غیر بنا کر مخاطب کیا جائے اور اس کے قول کو "بدعت" کہا
جائے، عجیب اور نامعقول ہو جاتا ہے۔ کوئی شخص اپنے ہی مسلک کو، اپنے سے الگ کر کے،
تیسرے متکلم کی طرح ذکر نہیں کرتا، سوائے اس کے کہ وہ واقعی اس مسلک سے منسلک نہ
ہو۔
(ج) خود قیاس پر
وکیع کی تنقید
مکتبِ اہلِ رائے کی بنیادی امتیازی خصوصیت قیاس کا وسیع استعمال
ہے۔ لیکن محدثین کی کتبِ تراجم میں وکیع سے قیاس پر ناپسندیدگی اور محدثانہ منہج
کی ترجیح کے اقوال منقول ہیں، جو ان کے مزاج کو محدثینِ اہلِ حدیث کے قریب اور
اہلِ رائے کے منہج سے دور ظاہر کرتے ہیں۔ ان کا یہ کہنا کہ "اشعار سنت ہے اور
(اہلِ رائے کا) قول بدعت ہے" اسی امتیاز پر مبنی ہے: سنت اور رائے کو دو
متضاد مصادر کے طور پر پیش کرنا، اور رائے کو مردود قرار دینا۔
(د) نتیجہ
لہٰذا، ابو یوسف اور امام محمد کے ساتھ وکیع کا تقابل قیاسِ مع
الفارق ہے۔ ابو یوسف و محمد کا اختلاف "مذہب کے اندر" کا اختلاف ہے،
جبکہ وکیع کا اختلاف "منہج کی سطح" کا اور "بیرونی نقد" کا
اختلاف ہے۔ اس فرق کی بنا پر وکیع کو ابو یوسف و محمد کے زمرے میں رکھ کر
"حنفی" قرار دینا اصولی طور پر درست نہیں۔
❖ ❖ ❖
پانچواں مبحث: حقیقتِ حال — وکیع
و قطان دونوں "مذہبِ کوفہ" یعنی اصحابِ عبداللہ بن مسعود کے مسلک پر تھے
جیسا کہ اوپر امام ابن المدینی کے قول سے واضح ہوا، امام یحییٰ
القطان "سفیان ثوری اور اصحابِ عبداللہ" کے مسلک پر تھے۔ امام وکیع بھی
بنیادی طور پر کوفی محدث اور سفیان ثوری کے تلمیذِ خاص تھے، اور کوفہ کا غالب فقہی
ماحول اصحابِ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی فقہی روایت سے عبارت تھا، جس سے
امام ابراہیم نخعی، امام حماد بن ابی سلیمان، امام سفیان ثوری، اور امام ابو حنیفہ
سب کسی نہ کسی درجے میں مستفید ہوئے۔
اسی نکتے کی مزید تائید ایک دوسری روایت سے ہوتی ہے جو خود امام
ابن معین سے، عباس الدوری کی تاریخ (۴/۳۱۴) اور ابن عدی کی الکامل (۸/۲۴۰) میں،
امام قطان کے بارے میں مروی ہے:
كان يحيى بن سعيد – يعني القطان – يذهب في الفتوى إلى مذهب
الكوفيين
"یحییٰ بن سعید (القطان) فتویٰ میں کوفیوں کے مذہب کی طرف
مائل تھے۔"
یہاں ابن معین خود "مذہبِ کوفیین" کی تعبیر استعمال کر
رہے ہیں، نہ کہ "مذہبِ ابی حنیفہ"۔ یہ الفاظ کا انتخاب بذاتِ خود نہایت
معنی خیز ہے: ابن معین کے ذہن میں ایک وسیع تر "کوفی فقہی روایت" موجود
تھی، جس میں ابو حنیفہ، سفیان ثوری، اور دیگر کوفی فقہاء سب شامل تھے، اور جب کسی
محدث کی رائے اس روایت کے کسی جزء سے موافق ہوتی، تو بعض اوقات راوی اس موافقت کو،
سہولتِ تعبیر کے طور پر، "قولِ ابی حنیفہ" سے بھی منسوب کر دیتے —
کیونکہ ابو حنیفہ اس دور میں کوفی فقہ کے سب سے نمایاں اور مشہور نمائندے کے طور
پر متعارف ہو چکے تھے، لیکن اصل مصدر ان کی ذات نہیں بلکہ اجتماعی کوفی فقہی روایت
(اصحابِ عبداللہ) تھی۔
چنانچہ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وکیع اور قطان دونوں اجمالی طور پر
"مذہبِ کوفہ" یعنی اصحابِ عبداللہ بن مسعود کے منہج پر تھے۔ جو بھی فقہی
رائے اس منہج کی تائید میں ملتی اور قرآن و سنت کے موافق ہوتی، وہ اسے اختیار کر
لیتے، چاہے وہ روایت ابو حنیفہ تک پہنچے، سفیان تک، یا کسی اور کوفی فقیہ تک۔ یہ
ایک وسیع تر علمی مشترکہ روایت کی موافقت ہے، نہ کہ کسی متعین شخصیت یا مذہب کی
تقلید۔
❖ ❖ ❖
چھٹا مبحث: امام ذہبی اور امام مبارکپوری کی تحقیق — "يفتي بقول أبي حنيفة" کا مصداق ایک محدود مسئلہ ہے
اس بحث کو مزید تقویت اس بات سے ملتی ہے کہ متاخرین محدثین نے خود
اس قول کی تخصیص کی ہے۔
امام شمس الدین الذہبی، تذکرۃ الحفاظ میں وکیع کے ترجمے کے تحت،
ابن معین کے مذکورہ قول کی وضاحت میں لکھتے ہیں:
ما فيه إلا شربه لنبيذ الكوفيين وملازمته له، جاء ذلك من غير وجه
عنه
"اس میں سوائے کوفیوں کے نبیذ پینے اور اس کے التزام کے کچھ
نہیں، یہ بات کئی سندوں سے ان سے منقول ہے۔"
ماخذ: تذکرۃ الحفاظ، ۱/۲۲۴
یعنی امام ذہبی کی تحقیق کے مطابق، جس مسئلے میں وکیع نے ابو حنیفہ
کے قول پر فتویٰ دیا، وہ صرف نبیذِ کوفیین (کوفیوں کے مشروب) کی حلت کا مسئلہ تھا،
اور بس۔
اسی تحقیق کو امام عبدالرحمٰن مبارکپوری نے تحفۃ الاحوذی میں مزید
واضح کیا:
المراد بقوله يفتي بقول أبي حنيفة هو الإفتاء بجواز شرب نبيذ
الكوفيين، فإن وكيعا كان يشربه ويفتي بجوازه على قول أبي حنيفة
"ان کے قول 'ابو حنیفہ کے قول پر فتویٰ دیتے تھے' سے مراد
نبیذِ کوفیین کے جواز کا فتویٰ ہے، کیونکہ وکیع اسے پیتے تھے اور ابو حنیفہ کے قول
پر اس کے جواز کا فتویٰ دیتے تھے۔"
اور پھر امام ذہبی کے قول کے بعد لکھتے ہیں:
والحاصل أن المراد بقوله يفتي بقول أبي حنيفة الخصوص لا العموم،
ولو سلم أن المراد به العموم فلا شك أن المراد أنه كان يفتي بقول أبي حنيفة الذي
ليس مخالفا للحديث
"حاصل یہ کہ اس قول 'ابو حنیفہ کے قول پر فتویٰ دیتے تھے' سے
مراد خصوص ہے، عموم نہیں۔ اور اگر بالفرض عموم بھی مراد لیا جائے، تو بلاشبہ اس سے
مراد یہی ہوگا کہ وہ ابو حنیفہ کے صرف انہی اقوال پر فتویٰ دیتے تھے جو حدیث کے
مخالف نہ ہوں۔"
ماخذ: تحفۃ الاحوذی، ۳/۵۵۶، نیز ۱/۲۰
یہ دونوں امام — ذہبی اور مبارکپوری — دونوں بالاتفاق اس نتیجے پر
پہنچے ہیں کہ:
1-
"يفتي بقول أبي
حنيفة" کا اطلاق خصوص پر ہے، عموم پر نہیں۔
2- خصوص کی صورت میں بھی، معاملہ صرف مسئلہ نبیذ تک محدود ہے۔
3- عموم تسلیم کر بھی لیا جائے تو بھی وہ صرف انہی اقوال تک محدود ہے
جو حدیث کے خلاف نہ ہوں — یعنی وکیع کا معیار خود حدیث ہے، ابو حنیفہ کی ذات یا
مذہب نہیں۔
یہ تحقیق اس دعوے کی جڑ کاٹ دیتی ہے کہ وکیع کسی مکمل فقہی نظام یا
"مذہبِ حنفی" کے پابند تھے۔
❖ ❖ ❖
ساتواں مبحث: کیا "يفتي بقول أبي
حنيفة" ابو حنیفہ کی توثیقِ حدیث ہے؟
بعض حضرات اس قول کو، بالخصوص کلی مفہوم میں لے کر، امام وکیع کی
طرف سے امام ابو حنیفہ کی روایتِ حدیث میں توثیق کے طور پر بھی پیش کرتے ہیں۔ یہ
استدلال بھی کئی وجوہ سے ناقابلِ قبول ہے۔
اولاً: بالفرض اگر یہ قول صحیح اور کلی مان بھی لیا جائے، تو زیادہ
سے زیادہ یہ ثابت ہوگا کہ وکیع، ابو حنیفہ کو ایک فقیہ اور صاحبِ رائے تسلیم کرتے
تھے۔ ایک شخص کے فقیہانہ رائے کو بعض مسائل میں قبول کر لینا، اس کی حدیث میں
ثقاہت کی توثیق ہرگز نہیں — فقہ اور روایتِ حدیث دو الگ الگ میدان ہیں، اور کسی کی
فقاہت کا اعتراف اس کی روایت کی صداقت کی دلیل نہیں بنتا۔
ثانیاً: اور یہی سب سے فیصلہ کن نکتہ ہے — یہ بات نقلاً ثابت ہے کہ
خود امام وکیع نے امام ابو حنیفہ کی روایتِ حدیث پر جرح کی ہے۔ اوپر مذکور دونوں
اقوال — "نا أبو حنيفة أنه سمع عطاء إن كان سمعه" (سماع پر تشکیک) اور "وجدنا أبا حنيفة
خالف مائتي حديث" (دو سو احادیث کی مخالفت کا شمار) — نقدِ رجال کی اصطلاح
میں واضح جرح شمار ہوتے ہیں۔ خصوصاً پہلا قول، جس میں ایک محدث دوسرے کے دعوائے
سماع کو مشکوک قرار دے، سخت جرح کی ایک قسم ہے۔
چنانچہ جب یہ ثابت ہے کہ خود وکیع نے ابو حنیفہ کی روایت پر جرح
کی، تو یہ کیسے ممکن ہے کہ اسی وکیع سے ابو حنیفہ کی توثیقِ حدیث بھی منسوب کی
جائے؟ دونوں باتیں ایک ساتھ جمع نہیں ہو سکتیں، سوائے اس تاویل کے کہ "يفتي بقول أبي
حنيفة" کا تعلق فقہ کے محدود دائرے (نبیذ کے مسئلے) سے ہے، حدیث کی
توثیق سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔
❖ ❖ ❖
آٹھواں مبحث: دوسری صدی ہجری پر
متاخر فقہی مذہبی اصطلاحات کا اطلاق — ایک تاریخی مغالطہ
آخری اور بنیادی نکتہ یہ ہے کہ "حنفی مذہب" کے بطور ایک
متعین، مدون، اصولِ فقہ، کتبِ ظاہر الروایہ اور تلامذہ کی متسلسل زنجیر کے ساتھ
ایک قائم شدہ فقہی مکتب کی حیثیت، امام ابو حنیفہ کی وفات (۱۵۰ھ) کے بعد، بالخصوص
ان کے تلامذہ امام ابو یوسف، امام محمد، اور بعد کے حنفی فقہاء کی مساعی سے،
تدریجاً استوار ہوئی۔ دوسری صدی ہجری کے وسط میں، جب وکیع (متوفی ۱۹۷ھ) اپنے علمی
سرگرمیوں میں مصروف تھے، فقہی "مذاہبِ اربعہ" کی وہ اصطلاحی، جماعتی اور
مسلکی شناخت جو بعد کی صدیوں میں رائج ہوئی، ابھی موجود نہ تھی۔
اس دور میں محدثین و فقہاء کا اصل امتیاز "اہلِ حدیث"
اور "اہلِ رائے" کے دو وسیع رجحانات کے مابین تھا — نہ کہ "حنفی،
شافعی، مالکی، حنبلی" کی اصطلاحی تقسیم کے مطابق۔ وکیع بالاتفاق محدثینِ کبار
میں شمار ہوتے ہیں، اور جیسا کہ اوپر تفصیل سے واضح ہوا، وہ خود کو "اہلِ
رائے" کے مقابل کھڑا کرتے، ان کے قول کو "بدعت" کہتے، اور سنت کو
ترجیح دیتے تھے۔ لہٰذا انہیں بعد کی صدیوں کی اصطلاح میں "حنفی" کہنا —
ایک ایسی جماعتی و مسلکی شناخت کا اطلاق ہے جو ان کے دور میں سرے سے موجود ہی نہ
تھی۔
یہ اصولی غلطی، جسے تاریخِ علم میں anachronism (زمانی مغالطہ) کہا
جاتا ہے، بہت سی غلط فہمیوں کی جڑ ہے۔ کسی محدث کا کسی فقیہ کے کسی ایک قول سے
اتفاق، خصوصاً جب وہ دونوں ایک ہی علاقائی فقہی روایت (کوفہ) سے تعلق رکھتے ہوں،
اسے بعد کی مذہبی اصطلاح میں "تحنّف" یا "انتسابِ مذہبی" پر
محمول کرنا تاریخی و منہجی طور پر غلط ہے۔
خلاصہ و نتیجہ
مذکورہ بالا تفصیلی مباحث سے درج ذیل نتائج اخذ ہوتے ہیں:
1- امام وکیع بن الجراح محدثین و فقہاءِ کوفہ کے نزدیک ایک مستقل
مجتہد، فقیہ اور مفتی کے طور پر معروف تھے، کسی کے مقلد کے طور پر نہیں۔ (العجلی،
ابراہیم بن شماس، ابن عمار الموصلی کی شہادتیں)
2- وکیع نے خود امام ابو حنیفہ کی روایتِ حدیث پر جرح کی، ان کی
مخالفتِ احادیث کا شمار کیا، اور ان کے ایک فقہی قول کو صراحتاً "بدعت"
اور "قولِ اہلِ رائے" قرار دے کر شدید ردِعمل ظاہر کیا۔
3- ابن معین کا قول "يفتي بقول أبي حنيفة" جزوی ہے، جیسا کہ اسی قول
کا اطلاق امام قطان پر بھی ہوا ہے جو بالاتفاق حنفی نہیں بلکہ "مذہبِ ثوری و
اصحابِ عبداللہ" پر تھے (بقول ابن المدینی) اور جن کی اپنی وضاحت سے یہ
معاملہ محض بعض مستحسن آراء کی موافقت کا ہے۔
4- وکیع کا ابو حنیفہ سے اختلاف، ابو یوسف و امام محمد کے اختلاف سے
بنیادی طور پر مختلف ہے: وہ منہجی و اصولی سطح کا اختلاف ہے (اہلِ رائے بمقابلہ
اہلِ حدیث، قیاس بمقابلہ سنت)، نہ کہ ایک ہی مکتب کے اندر کا فروعی اختلاف۔
5- حقیقت یہ ہے کہ وکیع اور قطان دونوں اجمالاً "مذہبِ
کوفہ" یعنی اصحابِ عبداللہ بن مسعود کی فقہی روایت پر تھے، اور اسی مشترکہ
مصدر کی بنا پر بعض اوقات ان کی رائے ابو حنیفہ سے موافق ہو جاتی، بشرطیکہ وہ قرآن
و سنت کے موافق ہو۔
6- خود ذہبی اور مبارکپوری جیسے محققینِ متاخرین نے واضح کیا کہ اس
قول کا مصداق، اگر کوئی ہے بھی، تو صرف مسئلہ نبیذ تک محدود ہے، عمومی فقہی انتساب
نہیں۔
7- دوسری صدی ہجری میں "حنفی مذہب" کی وہ متعین، جماعتی اور
مؤسساتی شناخت موجود ہی نہ تھی جو بعد کی صدیوں میں رائج ہوئی، لہٰذا اس اصطلاح کا
اطلاق وکیع پر تاریخی اعتبار سے غلط ہے۔
الحاصل: امام وکیع بن الجراح
رحمہ اللہ کو "حنفی المذہب" قرار دینا، نہ نصوص کی روشنی میں درست ہے،
نہ اصولِ تراجم کے موافق، بلکہ خود انہی روایات سے جن پر یہ دعویٰ قائم کیا جاتا
ہے، اس کی نفی ثابت ہوتی ہے۔ وہ ایک آزاد، متبعِ سنت، ناقدِ رائے، اور کوفی مکتبِ
حدیث کے جلیل القدر امام تھے، جن کی نسبت کسی متاخر مذہبی اصطلاح کی طرف کرنا نہ
ان کے اپنے اقوال سے ثابت ہے، نہ محدثین کی شہادتوں سے۔
مصادر و مراجع
۱۔ الجرح والتعدیل، ابن ابی حاتم الرازی
۲۔ تاریخ بغداد، الخطیب البغدادی
۳۔ سیر اعلام النبلاء، شمس الدین الذہبی
۴۔ تذکرۃ الحفاظ، شمس الدین الذہبی
۵۔ سنن الترمذی، مع شرح تحفۃ الاحوذی، عبدالرحمٰن
المبارکپوری
۶۔ تاریخ ابن معین، روایۃ عباس الدوری
۷۔ الکامل فی ضعفاء الرجال، ابن عدی

Post a Comment