امام حماد بن ابی سلیمان پر تدلیس کے الزام کا جائزہ اور بعض اعتراضات کا علمی جواب



فہرست

مجلہ نور الحدیث میں چھپے ایک مضمون کا جواب.. 3

پہلا استدلال: امام شافعیؒ کی امام شعبہؒ سے روایت اور اس کی حقیقت: 5

روایت کی نقل میں علمی خیانتیں: 7

بحث اول: کیا امام شعبہ نے "حدثنی حماد" کہا؟. 7

طرق کی روشنی میں درست لفظ: "حدث شعبہ" ہے (نہ کہ "حدثنی شعبہ"): 8

(1)  محمد بن عبد اللہ بن عبد الحکم کے دیگر تلامذہ کی روایات: 8

(2)  امام بن ابی حاتم والی روایت میں بھی "حدث" ہی ثابت ہے: 9

(3)  خارجی تائید: امام شافعیؒ کے دوسرے شاگرد یونس بن عبد الاعلی کی روایت... 9

(4) ناسخ کی غلطی کی ایک اور واضح دلیل: 10

(5) روایت کے سیاق میں "حدثنی" کا بے معنی ہونا: 11

بحث دوم: "حُدِّث" یا "حَدَّث" – درست لفظ کون سا ہے ؟. 12

بحث سوم: "حُدِّث" کا اس روایت کے معنی اور صحت پر اثر: 14

اختلاط کا قرینہ: 15

اعظمی صاحب کے مطلب کا رد – سوال گندم، جواب چنہ: 16

بحث چہارم: امام شافعی کی امام شعبہ سے روایت منقطع ہے: 17

امام شافعی کی امام شعبہ سے ملاقات کا عدمِ ثبوت.. 18

دوسرا استدلال:ا مام حاکمؒ کا حماد کو مدلسین میں شمار کرنا: 18

1-             پہلا جواب: 20

-2             دوسرا جواب: 21

-3             تیسرا جواب: 22

-4             چوتھا جواب: 22

-5             پانچواں جواب: 24

تیسرا استدلال:حافظ ابن حجر کا حماد کو طبقات المدلسین میں شمار کرنا: 24

1-          پہلا جواب: 25

2-          دوسرا جواب: 25

3-          تیسرا جواب: 26

خلاصہ کلام:

 

مجلہ نور الحدیث میں چھپے ایک مضمون کا جواب

کچھ عرصہ قبل راقم نے امام حماد بن ابی سلیمان کی طرف منسوب تدلیس کے دعوے پر ایک مختصر مگر مدلل رسالہ تحریر کیا تھا، جس میں واضح کیا گیا کہ ان سے تدلیس کا ثبوت کسی معتبر نص یا تطبیق سے قائم نہیں ہوتا۔ اس کے بعد حال ہی میں مجلہ نور الحدیث میں اس پر ایک بالواسطہ رد شائع کیا گیا ہے۔

افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس رد میں اصل دلائل کا کوئی تسلی بخش جواب نہیں دیا گیا، بلکہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ محض اپنے قارئین کو مطمئن کرنے کے لیے رسمی طور پر ایک مضمون ترتیب دے دیا گیا ہے۔ اس تحریر میں، مدلسین کے باب میں، مصنف کا وہی طرزِ فکر دوبارہ سامنے آتا ہے جو ان کی سابقہ تحریروں میں بھی دکھائی دیتا ہے، جہاں اصولِ حدیث کے بجائے غیر منضبط دعووں اور اصولی بے احتیاطی پر اعتماد کیا گیا ہے۔ کوئی بھی منصف قاری اگر اس مضمون کو سنجیدگی سے پرکھے تو ان علمی کمزوریوں کا نمایاں ہونا مشکل نہیں۔

زیرِ نظر مضمون کا مقصد انہی اصولی لغزشوں کی نشاندہی اور ان کا علمی محاسبہ ہے، اور یہ واضح کرنا ہے کہ امام حماد بن ابی سلیمان سے تدلیس کا کوئی ثبوت سرے سے نہیں پایا جاتا، چہ جائیکہ ان کی معنعن روایات کو بعض معاصر، خود ساختہ قواعد کی بنیاد پر کلی طور پر رد کر دیا جائے۔ اس بحث میں ائمہِ حدیث کے معتمد منہج کو بنیاد بنا کر مسئلے کو اس کے صحیح علمی تناظر میں پیش کیا جائے گا۔

امام حماد بن ابی سلیمان کی عدمِ تدلیس پر تاریخی و منہجی قرائن

اس تحریر کا جائزہ لینے سے قبل ضروری ہے کہ امام حماد بن ابی سلیمان اور ان کی طرف تدلیس کی عدمِ نسبت سے متعلق چند بنیادی نکات اور قرائن واضح کر دیے جائیں:

1- امام حماد بن ابی سلیمان ائمۂ متقدمین میں سے ہیں۔ صحابیِ رسول سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے ان کا سماع ثابت ہے، جس کے باعث ان کا شمار صغار تابعین میں ہوتا ہے۔ ان کی وفات 120ھ میں ہوئی، اور اس پر بعض اہلِ علم نے اجماع بھی نقل کیا ہے (دیکھیے: طبقات ابن سعد 8/452)۔

2- امام حماد بن ابی سلیمان کو امام ابراہیم نخعی کے علم کا وارث اور کوفہ کی فقہ کا مرکزی ستون تسلیم کیا جاتا ہے۔ ان کی فقہ، روایت اور اعتقادی منہج نہ تو اپنے زمانے میں مخفی رہا اور نہ ہی ان کے تلامذہ اور ہم عصر ائمۂ نقد سے پوشیدہ تھا۔ ان کی علمی زندگی کا ہر پہلو باریک بینی سے اہلِ علم کے سامنے رہا۔

3- امام حماد بن ابی سلیمان سے روایت کرنے والوں میں علمِ جرح و تعدیل کے اولین اور جلیل القدر ائمہ شامل ہیں، جیسے امام شعبہ بن حجاج اور امام سفیان ثوری۔ ان کے علاوہ امام معمر بن راشد، امام حماد بن سلمہ، امام ہشام دستوائی، اور امام مسعر بن کدام جیسے ثقہ محدثین بھی ان کے تلامذہ میں شامل ہیں۔ پھر انہی واسطوں سے ان کی روایات بعد کے کبار ائمۂ نقد و علل تک پہنچیں، جن میں امام احمد بن حنبل، امام یحییٰ بن معین، امام علی بن مدینی، اور ان کے بعد امام بخاری، امام مسلم، امام ذہلی، امام ابو زرعہ، امام ابو حاتم، امام نسائی، امام ابن عدی، امام ابن حبان، امام عجلی اور امام دارقطنی جیسے چوٹی کے ائمہ شامل ہیں۔ ان حضرات نے صدیوں پر محیط اپنی تنقیدی کاوشوں میں امام حماد بن ابی سلیمان کی تمام روایات کا باریک بینی سے جائزہ لیا، ان کی مضبوطیوں اور کمزوریوں کو واضح کیا، لیکن ان میں سے کسی ایک نے بھی انہیں مدلس قرار نہیں دیا۔

4-        اس کے برعکس، امام حماد بن ابی سلیمان کا منہج تحدیث اور اتصالِ سند کے التزام پر قائم تھا، اور اس کا واضح قرینہ ہمیں اس روایت میں ملتا ہے۔ چنانچہ امام حماد بن سلمہ فرماتے ہیں:

"كنا نأتى قتادة فيقول: بلغنا عن النّبىّ، عليه السلام، وبلغنا عن عمر وبلغنا عن عليّ، ولا يكاد يُسند، فلمّا قدم ‌حَمّاد ‌بن ‌أبى ‌سليمان البصرة جعل يقول: حدّثنا إبراهيم وفلان وفلان، فبلغ قتادة ذلك فجعل يقول: سألتُ مطرّفًا وسألت سعيد بن المسيّب، وحدّثنا أنس بن مالك فأخبر بالإسناد "

(ہم قتادہ کے پاس جایا کرتے تھے، تو وہ کہتے تھے: ہمیں نبی ﷺ کے بارے میں یہ خبر پہنچی، ہمیں عمر کے بارے میں یہ خبر پہنچی، ہمیں علی کے بارے میں یہ خبر پہنچیاور وہ عموماً سند بیان نہیں کرتے تھے۔
پھر جب حمّاد بن ابی سلیمان بصرہ آئے تو وہ یوں کہتے:ہمیں ابراہیم نے حدیث بیان کی، فلاں نے حدیث بیان کی، فلاں نے حدیث بیان کی (یعنی باقاعدہ اسناد کے ساتھ)۔
جب یہ بات قتادہ تک پہنچی تو وہ بھی کہنے لگے: میں نے مطرّف سے سوال کیا، میں نے سعید بن مسیّب سے سوال کیا، اور ہمیں انس بن مالک نے حدیث بیان کیاور یوں وہ اسناد کے ساتھ روایت کرنے لگے)

(الطبقات الکبری لابن سعد: 9/230)

یہ اثر واضح قرینہ ہے کہ حمّاد بن ابی سلیمان اسناد کے اہتمام، صیغۂ تحدیث اور اتصالِ روایت کے قائل تھے۔ ایسا راوی جس کا اثر ہی یہ ہو کہ دوسرے اہلِ علم مجہول نقل چھوڑ کر اسناد اختیار کریں، اس پر تدلیس کا الزام لگانا منہجاً کمزور اور تاریخی شواہد کے خلاف ہے۔

5- امام حماد بن ابی سلیمان کے بارے میں تدلیس کا پہلا ذکر ہمیں پانچویں صدی میں امام حاکم کے ہاں ملتا ہے، وہ بھی بغیر کسی صریح دلیل اور غیر واضح انداز میں۔ عقل اور منہجِ نقد دونوں اس بات کو قبول نہیں کرتے کہ تابعین کے دور کا ایک معروف امام، جس کی روایات صدیوں تک کبار ائمۂ حدیث کی کڑی نگرانی میں رہیں، ان کی تدلیس ان سب سے مخفی رہی اور صدیوں بعد ایک متساہل عالم پر منکشف ہوئی۔ امام حاکم کے اس قول کی حقیقت اور حیثیت پر آگے تفصیل سے گفتگو کی جائے گی۔

6- اس کے باوجود بعض معاصر متشدد حضرات اسی کمزور اور غیر واضح اشارے کو بنیاد بنا کر امام حماد بن ابی سلیمان کی تمام معنعن روایات کو رد کر دیتے ہیں، حالانکہ یہ طرزِ عمل نہ امام حاکم سے ثابت ہے اور نہ ہی ان سے پہلے کسی معتبر عالم سے۔ ایسے میں یہ دعویٰ کہ یہی منہجِ محدثین ہے، خود اپنے بطلان پر سب سے بڑی دلیل بن جاتا ہے۔

رہا امام حماد بن ابی سلیمان کی تدلیس کے ثبوت کا دعویٰ، تو اس ضمن میں جو دلیل پیش کی جاتی ہے، اب اس کا تفصیلی اور اصولی جائزہ لیا جائے گا، اور نور الحدیث میں شائع ہونے والی تحریر کے علمی مقام کو واضح کیا جائے گا۔

پہلا استدلال: امام شافعیؒ کی امام شعبہؒ سے روایت اور اس کی حقیقت:

صاحبِ مضمون کہتے ہیں:

A page of a book

AI-generated content may be incorrect.

 

صاحبِ مضمون نے (تصویر میں) یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ امام شعبہؒ نے امام حماد بن ابی سلیمان سے "حدثنی" (براہِ راست سماع) کے ساتھ روایت بیان کی، اور اسی سے وہ اپنے مطلوبہ نتیجے کی طرف بڑھتے ہیں۔

مختصر جواب

اس کا مختصر جواب یہ ہے کہ متن کی تحقیق اور طرق کے تقابل سے ثابت ہوتا ہے کہ اس مقام پر "حدثنی" درست نہیں، بلکہ اصل لفظ "حُدِّث"ہے۔ اور جس متن سے مصنف نے سہارا لیا، وہاں ناسخ/طبعی غلطی کے واضح قرائن موجود ہیں۔

روایت کی نقل میں علمی خیانتیں:

یہاں مصنف سے جو علمی لغزشیں صادر ہوئی ہیں، وہ یا تو تحقیقِ متن کے بنیادی اصولوں سے ناواقفیت کی علامت ہیں، یا پھر ایسی دانستہ طرزِ استدلال کا نتیجہ جن میں تدلیس کے دعوے کو ثابت کرنے کے لیے خود تدلیسی طریقہ اختیار کیا گیا ہے۔ ان دونوں صورتوں میں یہ طرزِ عمل علمی دیانت کے معیار پر پورا نہیں اترتا۔ اس مقام پر مصنف سے درج ذیل واضح علمی خیانتیں سرزد ہوئی ہیں:

1-  اس روایت کی اصل میں امام شعبہ اور امام حماد کے درمیان حدثنی کے بجائے حُدِّث / حدث کا لفظ ثابت ہے، جیسا کہ متعدد صحیح طرق سے واضح ہوتا ہے۔ اس کے باوجود، مخالف اور زیادہ قوی طرق سے باخبر ہوتے ہوئے بھی مصنف نے اسی غلط لفظ کو برقرار رکھا، جو محض سہو نہیں بلکہ انتخابی استدلال (selective citation) کی واضح مثال ہے۔

2-   مصنف نے جان بوجھ کر اس روایت کے اُس متن کو نظر انداز کیا جس میں واقعے کا کامل اور واضح سیاق موجود ہے، اور اس کے بجائے ایک مختصر اور مبہم متن کو پیش کیا جس میں تفصیلات کم ہیں۔ اس اختصار کا مقصد بحث کو واضح کرنا نہیں بلکہ اسی ابہام کے اندر اپنے موقف کو چھپا کر پیش کرنا معلوم ہوتا ہے، دیکھیں عنوان: "روایت کے سیاق میں حدثنی کا بے مطلب وبےمعنی ہونا"۔

3-   جس کتاب سے روایت نقل کی گئی، اس کا مکمل متن بھی ذکر نہیں کیا گیا۔ اگر پورا متن پیش کر دیا جاتا تو یہ حقیقت فوراً سامنے آ جاتی کہ اس مقام پر ناسخ کی غلطیاں موجود ہیں، جیسا کہ آگے تفصیلاً واضح کیا جائے گا۔ متن کے اس انتخابی نقل سے قاری کو اصل علمی صورتِ حال سے دور رکھا گیا ہے۔

آئیے اس روایت کا تفصیلی جائزہ لیتے ہیں:

بحث اول: کیا امام شعبہ نے "حدثنی حماد" کہا؟

یہ امر اہلِ فن سے مخفی نہیں کہ "حدث" کا "حدثنی" میں بدل جانا تصحیف میں نہایت عام ہے، بالخصوص اسانید کے باب میں جہاں "حدثنی" کثرتِ استعمال کی بنا پر ناسخین کی لغزش کا سب سے پہلا شکار بنتا ہے۔ ایسے مقام پر کم از کم علمی دیانت کا تقاضا یہ تھا کہ روایت کے دیگر طرق اور مراجع کو سامنے رکھ کر لفظ کی تصحیح کی جاتی۔ لیکن مصنف نے اس اصولی تقاضے کو بالکل نظر انداز کرتے ہوئے اپنے مطلوبہ نتیجے کے مطابق ایک لفظ اٹھا لیا، اور اس کے بالمقابل موجود متعدد طرق کے ساتھ تقابل کرنے کی زحمت تک گوارا نہیں کی۔ یہ اس کے باوجود ہے کہ خود مصنف نے اپنی تخریج میں انہی مراجع میں سے بعض کا حوالہ دیا ہے۔ اس طرزِ عمل کو سہو یا سادہ غفلت پر محمول کرنا ممکن نہیں، بلکہ یہ صریح علمی بددیانتی اور انتخابی استدلال کی مثال ہے۔

طرق کی روشنی میں درست لفظ: "حدث شعبہ" ہے (نہ کہ "حدثنی شعبہ"):

(1)        محمد بن عبد اللہ بن عبد الحکم کے دیگر تلامذہ کی روایات:

امام عبد الرحمن بن ابی حاتم نے یہ روایت محمد بن عبد اللہ بن عبد الحکم کے واسطے سے امام شافعیؒ سے نقل کی ہے۔ یہی روایت ابن عبد الحکم کے دوسرے تلامذہ نے بھی نقل کی، اور ان سب کے الفاظ "حدث" ہی کے مطابق ہیں:

1-  ابو العلاء کامل بن مکمل التمیمی السغدی البخاری (صدوق) کی روایت:

ابو العلاء کامل بن مکرم کی روایت کے الفاظ ہیں:

" أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال: أخبرني أبو الحسن علي بن بندار الصوفي قال: حدثنا أبو العلاء كامل بن مكرم قال: حدثنا محمد بن عبد الله بن عبد الحكم قال: سمعت ‌الشافعي يقول : حدث ‌شعبة ، عن ‌حماد ، عن ‌إبراهيم بحديث... "

(معرفۃ السنن والآثار للبیہقی: 260، والخلافیات للبیہقی: 740)

2-   ثقہ حافظ فقیہ امام یحیی بن زکریا بن یحیی النیسابوری ابو زکریا الملقب: حیویہ کی روایت:

امام یحیی بن زکریا بن حیویہ کی روایت کے الفاظ ہیں:

" حدثنا يحيى بن زكريا بن حيويه قال قرئ على محمد بن عبد الله بن عبد الحكم، قال: سمعت الشافعي يقول، حدث شعبة عن حماد عن إبراهيم بحديث..."

(الکامل لابن عدی: 3/4، وانظر: مناقب الشافعی للبیہقی: 1/527،و اللطائف من دقائق المعارف:  1/365)

تنبیہ: "الکامل" کے مطبوعہ نسخے کی غلطی:

الکامل فی ضعفاء الرجال کے مطبوعہ نسخے میں یہاں "حُدِّث شعبہ" کی بجائے "حدثنی شعبہ" لکھا گیا ہے اور اس کو امام شافعی کی طرف منسوب کیا گیا ہے یعنی امام شافعی نے فرمایا حدثنی شعبہ (مجھے شعبہ نے بیان کیا)، یہ طباعت کی غلطی ہے، کیونکہ:

1.    مکتبہ ظاہریہ کے قلمی نسخے میں "حُدِّث" ہی ہے۔

2.    ابو موسی المدینی نے اللطائف میں اس روایت کو امام ابن عدی کے طریق سے نقل کرتے ہوئے "حُدِّث" ہی نقل کیا ہے۔

3.    امام بیہقی نے بھی اسے امام ابن عدی کے طریق سے نقل کیا اور یہاں "حدث" ہی نقل کیا ہے۔

4.    امام تقی الدین المقریزی نے الکامل کا جو اختصار کیا ہے اس میں بھی انہوں نے اس روایت کے تحت "حدث" ذکر کیا ہے۔

5.    جبکہ اس غلطی کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ امام شافعی کا امام شعبہ سے سماع ممکن نہیں لہٰذا ان کا حدثنی شعبہ کہنا محال ہے۔

(2)         امام بن ابی حاتم والی روایت میں بھی "حدث" ہی ثابت ہے:

یہاں تک کہ خود امام ابن ابی حاتم کی روایت میں بھی اصلاً "حدثنی" ثابت نہیں ہوتا، بلکہ یہ صراحتاً کتاب آداب الشافعی کے ناسخ کی غلطی ہے۔ اس کی واضح دلیل یہ ہے کہ اسی روایت کو امام ابن ابی حاتم ہی کے طریق سے امام بیہقی نے بھی نقل کیا ہے، مگر انہوں نے اس مقام پر صاف طور پر یہ وضاحت کر دی ہے کہ ابن ابی حاتم کے الفاظ بھی باقی رواۃ کے الفاظ کے بالکل ہم معنی اور ہم طرز ہیں، نہ کہ ان سے مختلف۔

چنانچہ امام بیہقی کامل بن مکرم کی روایت نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں:

" أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرنيه أبو أحمد بن أبي الحسن، أنا عبد الرحمن بن محمد، ثنا محمد بن عبد الحكم، عن الشافعي. فذكره بنحوه"

(الخلافیات للبیہقی: 741)

یعنی عبد الرحمن بن محمد (یعنی امام ابن ابی حاتم) نے بھی اس روایت کو محمد بن عبد الحکم عن الشافعی کے طریق سے اسی لفظی اسلوب کے ساتھ نقل کیا ہے، نہ کہ "حدثنی" کے ساتھ۔

مزید برآں، امام بیہقی نے ایک دوسری جگہ امام ابن ابی حاتم اور امام یحییٰ بن زکریا بن حیویہ دونوں کی اسانید کو یکجا ذکر کر کے ایک ہی متن نقل کیا ہے، اور وہاں بھی صراحتاً یہی الفاظ ذکر کیے ہیں:

"وأخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال: أخبرني أبو أحمد بن أبي الحسن قال: حدثنا عبد الرحمن - يعني ابن أبي حاتم قال: حدثنا محمد بن عبد الله بن عبد الحكم.

وأخبرنا أبو سعد: أحمد بن محمد بن محمد بن الهروي قال: حدثنا أبو أحمد ابن عدي قال: حدثنا يحيى بن زكريا بن حَيّوية قال: قرئ على محمد بن عبد الله بن عبد الحكم قال: سمعت الشافعي يقول: حدث ‌شعبة عن حماد عن إبراهيم بحديث..."

(مناقب الشافعی للبیہقی: 1/527)

اس سے واضح طور پر ثابت ہو جاتا ہے کہ امام ابن ابی حاتم کی روایت میں بھی اصل لفظ "حدث" ہی ہے، اور "حدثنی" کا دعویٰ نہ روایتاً ثابت ہے اور نہ اصولاً قابلِ قبول۔

(3)         )3()Top of Form خارجی تائید: امام شافعیؒ کے دوسرے شاگرد یونس بن عبد الاعلی کی روایت

 

 

Bottom of Form

اس پر ایک نہایت قوی اور فیصلہ کن دلیل یہ ہے کہ اس روایت میں امام محمد بن عبد اللہ بن عبد الحکم کی متابعت امام شافعیؒ کے ایک دوسرے جلیل القدر تلمیذ اور ثقہ حافظ، امام یونس بن عبد الاعلی نے بھی کی ہے، اور انہوں نے بھی یہاں صراحتاً "حدث" ہی ذکر کیا ہے۔ امام بیہقی اس روایت کو نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

" حدثنا أحمد بن محمد بن الحسن العطار بمصر، قال: سمعت يونس بن عبد الأعلى يقول: سمعت ‌الشافعي يقول: حدث ‌شعبةُ، عن ‌حماد، عن ‌إبراهيم بحديث... "

(المدخل الی السنن الکبری للبیہقی: 1/394)

پس اس روایت کے متن کی تصحیح محض ابن عبد الحکم کے متعدد تلامذہ کی روایات ہی سے نہیں ہوتی، بلکہ ایک مستقل خارجی قرینے اور امام شافعیؒ کے دوسرے معتبر شاگرد کی روایت سے بھی پوری طرح ثابت ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد بھی اگر کوئی اس متن میں تردد پیدا کرے، تو یہ اس کے تعصب اور ہٹ دھرمی کی نشانی ہے جس کا کوئی علاج نہیں ہو سکتا۔

(4)         ناسخ کی غلطی کی ایک اور واضح دلیل:

جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا، مصنف نے جس متن سے استدلال کیا ہے اس کا مکمل متن جان بوجھ کر ذکر نہیں کیا۔ اگر پورا متن سامنے رکھ دیا جاتا تو فوراً واضح ہو جاتا کہ اس مقام پر ناسخ سے ایک نہیں، متعدد غلطیاں واقع ہوئی ہیں۔ چنانچہ آداب الشافعی میں روایت کا مکمل متن یوں ہے:

" أنا أبو محمد، ثنا ابن عبد الحكم سمعت ‌الشافعي يقول: قال ‌شعبة: حدثني ‌حماد، بحديث عن ‌إبراهيم، فقلت: من أخبرك؟ سمعت هذا من ‌إبراهيم؟ قال: لا، فقلت: من أخبرك؟ قال: أخبرني ‌منصور. قال: فجئت إلى منصور، فقلت: أخبرني حماد، عنك بحديث عن إبراهيم، أسمعته من إبراهيم؟ قال: لا، أخبرني مغيرة عن إبراهيم، فلقيت مغيرة، فقلت: رويت عن إبراهيم كذا وكذا؟ قال: نعم، قلت: سمعته منه؟ قال: لا، أخبرني حماد. قال: فحرصت أن أعرف ممن خرج أول الحديث؟ فلم أقدره."

(آداب الشافعی ومناقبہ لابن ابی حاتم: ص 167)

اس مکمل متن سے ناسخ کی ایک کھلی ہوئی غلطی فوراً سامنے آ جاتی ہے: مغیرہ سے پوچھا گیا کہ آپ نے یہ روایت کس سے لی؟ تو متن میں جواب "حماد" درج ہے، حالانکہ صحیح اور معروف طریق کے مطابق یہاں "الحکم" ہونا چاہیے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ناسخ نے روایت کو ایک گول چکر بنا دیا: حماد سے شروع کر کے حماد ہی پر ختم کر دیا۔

اب ذرا انصاف سے دیکھیے: اگر کوئی شخص (یا خاص طور پر مصنف کے ہمنوا) یہ کہتا ہے کہ یہاں تمام طرق کے خلاف"حدثنی" درست ہے، تو پھر اسی منطق کے مطابق یہاں "حماد" بھی درست ماننا پڑے گا، جس کا لازمی نتیجہ یہ ہو گا کہ روایت کا مدار اپنے آپ پر لوٹ آیا اور معنی و واقعہ دونوں مضطرب ہو گئے۔ اور اگر وہ اس جگہ "حماد" کو دیگر طرق کی روشنی میں غلط تسلیم کرتا ہے، تو پھر اسی اصول کے تحت "حدثنی" کو بھی دیگر طرق کی روشنی میں غلط ماننا لازم ہو گا۔

ایک ہی متن میں ناسخ کی ایک غلطی کو تو آپ "تصحیف" کہہ کر درست کر لیں، اور دوسری کو "حجت" بنا کر کھڑا کر دیں، یہ علمی اصول نہیں بلکہ انتخابی استدلال ہے؛ اور یہی وہ طرزِ عمل ہے جس پر اصل اعتراض قائم ہے۔

(5)         روایت کے سیاق میں "حدثنی" کا بے معنی ہونا:

جیسا کہ ابتدا میں واضح کیا جا چکا ہے، صاحبِ مضمون کی بنیادی علمی خیانتوں میں سے ایک یہ ہے کہ انہوں نے اس روایت کے مختصر اور ناقص متن کو محورِ بحث بنایا، جبکہ اس کے مقابلے میں موجود احسن اور اتم سیاق والے متن کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا۔ اگر وہ دیانت داری کے ساتھ اس روایت کا پورا سیاق پیش کر دیتے تو خود بخود یہ بات قاری پر منکشف ہو جاتی کہ اس مقام پر "حدثنی" نہ صرف روایتاً غلط ہے بلکہ سیاق کے اعتبار سے بھی بالکل بے معنی ہے۔

اس روایت کے سیاق کا ایک نہایت اہم حصہ امام ابن عدی نے یوں نقل کیا ہے:

" الشافعي يقول، حدث شعبة عن حماد عن إبراهيم بحديث قال شعبة فلقيت حماد فقلت له أسمعته من إبراهيم، قال: حدثني مغيرة..."

(امام شافعی نے فرمایا: شعبہ کو حماد عن ابراہیم کے طریق سے ایک حدیث بیان کی گئ، شعبہ فرماتے ہیں میں نے بعد میں حماد سے ملاقات کی تو پوچھا کیا آپ نے یہ روایت ابراہیم سے سنی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: مجھے مغیرہ نے یہ حدیث بیان کی۔۔۔)

(الکامل لابن عدی: 3/4)

اب یہاں ایک سادہ مگر فیصلہ کن سوال پیدا ہوتا ہے:
اگر امام شعبہؒ کو امام حماد نے یہ حدیث پہلے ہی براہِ راست "حدثنی" کہہ کر بیان کر دی تھی، تو پھر امام شعبہؒ کا بعد میں حماد سے ملاقات کر کے اسی روایت کے بارے میں سوال کرنا آخر کس معنی میں تھا؟ بالخصوص جبکہ امام شعبہؒ کے بارے میں یہ بات مسلم ہے کہ وہ اپنے کسی شیخ کی روایت اس وقت تک قبول ہی نہیں کرتے تھے جب تک وہ صراحتاً سماع کی وضاحت نہ کر دے۔

تو پھر یہ کیسے تصور کیا جا سکتا ہے کہ امام شعبہؒ نے ایک غیر متحقق یا غیر مسموع روایت کو پہلے قبول کر لیا، اسے آگے بیان بھی کر دیا، اور اس کے بعد اسی روایت کے بارے میں دوبارہ تحقیق کے لیے حماد سے جا کر سوال کیا؟ یہ طرزِ عمل نہ محدثین کے معروف عرف سے ہم آہنگ ہے اور نہ ہی عقلِ سلیم اس کو قبول کرتی ہے۔

یہی نکتہ ہم نے اپنے اصل مضمون میں بھی واضح کیا تھا، مگر اعظمی صاحب نے حسبِ عادت اسے نظر انداز کرنا ہی مناسب سمجھا، اور یوں عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے ایک ایسے لفظ کو بنیاد بنایا جو نہ روایتاً ثابت ہے اور نہ سیاقاً قابلِ فہم۔

چنانچہ روایت کے سیاق کے اعتبار سے بھی یہی بات متعین ہو جاتی ہے کہ یہاں درست لفظ "حُدِّث" ہے۔ اسی صورت میں روایت کا پورا واقعہ، اس کی تحقیق، اور امام شعبہ کا طرزِ تعامل سب باہم منطبق ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ "حدثنی" کو برقرار رکھنا نہ صرف متن کو مضطرب بناتا ہے بلکہ پوری روایت کو غیر معقول بنا دیتا ہے۔

 بحث دوم: "حُدِّث" یا "حَدَّث" – درست لفظ کون سا ہے ؟

صاحبِ مضمون نے پہلے امام شعبہ کی طرف سے "حدثنی حماد" کو نہایت کمزور بلکہ تصحیف شدہ دلیل کے ذریعے ثابت کرنے کی کوشش کی، اور پھر اسی غیر ثابت شدہ لفظ کو بنیاد بنا کر دیگر صحیح اور ثابت شدہ روایات کو بھی زبردستی اسی قالب میں ڈھالنے کی سعی کی۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں:

A black text on a white background

AI-generated content may be incorrect.

اس کے جواب میں درج ذیل امور واضح رہنے چاہییں:

1-  اوّلاً: "حدثنی" کا لفظ سرے سے ثابت ہی نہیں - جیسا کہ تفصیل کے ساتھ واضح کیا جا چکا ہے، اس روایت میں "حدثنی" کا لفظ کسی معتبر طریق سے ثابت نہیں۔ لہٰذا ایسی چیز کو بنیاد بنا کر کوئی دعویٰ قائم کرنا اصولِ حدیث کے اعتبار سے بے بنیاد اور علمی لحاظ سے ناقابلِ التفات ہے۔

2-   ثانیاً: ایک ہی روایت کو دو الگ واقعات بنا دینا صریح مغالطہ ہے - صاحبِ مضمون کا یہ کہنا کہ "لہٰذا جن کتب میں 'حدث شعبہ…' ہے وہاں اس کا فلاں مطلب ہے" - اس بات کا تاثر دیتا ہے گویا یہاں دو الگ الگ واقعات ہیں: ایک وہ جس میں "حدثنی" ہے، اور دوسرا وہ جس میں "حدث" ہے۔

حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ یہ سب ایک ہی روایت کے اجزاء ہیں، جن کا مخرج، مصدر اور متن ایک ہی ہے۔ ایسی صورت میں یہ تصور ہی باطل ہے کہ امام شافعی سے صادر ہونے والا ایک ہی قول مختلف کتب میں جا کر اپنا معنی یا صیغہ بدل لے۔

یہ درحقیقت مخالفت ہے، اور وہ بھی ایسی مخالفت جس میں امام شافعی سے روایت کرنے والے تمام شاگرد ایک ہی لفظ پر متفق ہیں، جبکہ ان کے شاگرد کے صرف ایک شاگرد سے ایک لفظ میں اختلاف منقول ہے، وہ بھی واضح تصحیف کے قرائن کے ساتھ۔ اصولِ روایت کے مطابق ایسی شاذ مخالفت کو قبول نہیں کیا جاتا۔

3-   ثالثاً: روایت کا سیاق "حَدَّث" کی نفی اور "حُدِّث" کی تائید کرتا ہے روایت کے مطابق:

·       امام شعبہ کو ایک حدیث حماد عن ابراہیم کے طریق سے پہنچی

·       پھر امام شعبہ نے خود حماد سے ملاقات کی

·       اور ان سے پوچھا:
"کیا آپ نے یہ روایت ابراہیم سے سنی ہے؟"

یہ سیاق خود بخود درج ذیل حقائق واضح کر دیتا ہے:

·       امام شعبہ کو یہ حدیث ابتدا میں براہِ راست سماع کے طور پر نہیں ملی

·       بلکہ کسی واسطے سے ان تک پہنچی (یعنی: حُدِّث)

·       اسی وجہ سے انہوں نے اصل سماع کی تحقیق کے لیے حماد سے سوال کیا

·       اگر یہاں لفظ "حَدَّث" (صیغۂ معلوم) مراد لیا جائے تو پورا سیاق بے معنی، متناقض اور غیر معقول ہو جاتا ہے، جیسا کہ پہلے واضح کیا جا چکا ہے۔

4-   رابعا: اس متن میں " حُدِّث " کی تصریح – مخالف کے گھر کی دلیل یہاں ایک نہایت اہم اور فیصلہ کن نکتہ قابلِ توجہ ہے، اور وہ یہ کہ اس متن میں "حُدِّث" کے درست ہونے کی تائید خود صاحبِ مضمون کے گھر سے مل جاتی ہے ۔ تدلیس کے باب میں جن کے منہج پر صاحبِ مضمون گامزن ہیں، بلکہ جنہیں وہ اس معاملے میں اپنا مرجع اور مقتدی سمجھتے ہیں، یعنی شیخ زبیر علی زئیؒ، وہ خود اس روایت میں "حُدِّث" ہی کو درست تسلیم کرتے ہیں۔

چنانچہ شیخ زبیر علی زئیؒ نے اپنی کتاب الفتح المبین میں اس متن کو صراحتاً "حُدِّث" (صیغۂ مجہول) کے ساتھ ضبط کیا ہے، جو اس بات کی کھلی دلیل ہے کہ ان کے نزدیک بھی یہاں "حُدِّث" مراد ہے  نہ کہ "حَدَّث"۔

A black and white text

AI-generated content may be incorrect.

اسی طرح تدلیس کے موضوع پر معاصر دور کی سب سے مضبوط اور تحقیقی کتاب التدلیس فی الحدیث کے مصنف ڈاکٹر مسفر الدمینی بھی اسی روایت کے تحت صاف لفظوں میں فرماتے ہیں:

"ثم إني نظرت في خبر الشافعي المتقدم فإذا فيه: حُدِّث بالبناء للمجهول"

(پھر میں نے امام شافعی کی مذکورہ روایت کو دیکھا تو اس میں لفظ 'حُدِّث' صیغۂ مجہول کے ساتھ آیا ہے

(التدلیس فی الحدیث للدمینی: ص 196)

پس یہاں یہ بات نہایت واضح ہو جاتی ہے کہ:

·       سیاقِ روایت

·       متعدد طرق

·       منہجِ محدثین

·       اور خود اسی منہج کے بڑے نمائندہ اہلِ علم

سب اس بات پر متفق ہیں کہ اس مقام پر درست لفظ "حُدِّث" ہی ہے، نہ کہ "حَدَّث" اور نہ "حدثنی"۔ اس کے بعد بھی اس لفظ پر اصرار محض علمی نہیں بلکہ منہجی تضاد اور اختیاری تعصب کے سوا کچھ نہیں رہتا۔

 

بحث سوم: "حُدِّث" کا اس روایت کے معنی اور صحت پر اثر:

جب یہ ثابت ہو چکا کہ اس روایت میں درست لفظ "حُدِّث" ہے اور "حدثنی" سرے سے ثابت ہی نہیں، تو اب سوال یہ نہیں رہتا کہ حماد نے تدلیس کی یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ یہ روایت امام شعبہ تک کس طریق سے پہنچی، اور اس طریق کی حیثیت کیا ہے؟

یہ امر اہلِ حدیث کے نزدیک مسلم ہے کہ "حُدِّث" صیغۂ مجہول ہے، اور اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ:

·       روایت براہِ راست سماع کے طور پر ثابت نہیں

·       بلکہ کسی نامعلوم واسطے کے ذریعے پہنچی ہے

چنانچہ “حُدِّث شعبہ عن حماد” کا صاف اور متعین مطلب یہ ہے کہ:

امام شعبہ کو حماد کی یہ روایت بالواسطہ پہنچی، نہ یہ کہ انہوں نے اسے براہِ راست حماد سے سنا۔ صیغۂ مجہول کا استعمال خود اس امر کی علامت ہے کہ وہ واسطہ یا تو معلوم نہیں یا مقصود نہیں تھا، اور یہی وجہ ہے کہ امام شعبہ نے اس روایت کو بلا تحقیق قبول کرنے کے بجائے تحقیق اور تتبع کا راستہ اختیار کیا۔

اسی بنا پر اس روایت سے حماد کی تدلیس ثابت کرنا اصولی طور پر مشکل ہو جاتا ہے، کیونکہ اصل اشکال حماد پر نہیں بلکہ اس واسطے پر ہے جس کے ذریعے یہ روایت امام شعبہ تک پہنچی۔ اس مقام پر متعدد قوی احتمالات پیدا ہوتے ہیں:

1-  ممکن ہے کہ وہ واسطہ ضعیف یا غیر معتبر ہو جس نے یہ روایت حماد عن ابراہیم کے طریق سے امام شعبہ تک پہنچائی۔

2-   یہ بھی ممکن ہے کہ وہ واسطہ خود مدلس ہو، اور اس نے یہاں تدلیسِ تسویہ کرتے ہوئے حماد اور ابراہیم کے درمیان کے واسطے کو ساقط کر دیا ہو۔

3-   یہ احتمال بھی بعید نہیں کہ وہ واسطہ فی نفسہ معتبر ہو، لیکن اس نے یہ روایت حماد سے اختلاط کے بعد لی ہو، جس صورت میں واسطے کا گرنا حماد کی تدلیس نہیں بلکہ ان کی تخلیط اور سُوءِ حفظ کا نتیجہ ہوگا۔

اختلاط کا قرینہ:

اس آخری احتمال کی تائید روایت کے سیاق اور تاریخی قرائن سے بھی ہوتی ہے۔ روایت میں امام شعبہ کا بیان ہے کہ انہوں نے تحقیق کی تو حماد نے کہا کہ انہوں نے یہ روایت مغیرہ سے لی، پھر مغیرہ سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ انہوں نے یہ روایت منصور سے لی، پھر منصور سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ انہوں نے یہ روایت الحکم بن عتیبہ سے سنی۔ اس کے بعد امام شعبہ اس تحقیق کو آگے نہ بڑھا سکے اور روایت کی اصل تک نہیں پہنچ پائے۔

یہ نکتہ خاص طور پر قابلِ غور ہے کہ الحکم بن عتیبہ بھی امام شعبہ کے شیوخ میں شامل ہیں اور اسی شہر کے راوی ہیں جہاں باقی رواۃ ہیں۔ اس کے باوجود امام شعبہ کا ان تک نہ پہنچ پانا اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اس وقت تک الحکم بن عتیبہ وفات پا چکے تھے۔ جمہور مؤرخین کے مطابق ان کی وفات 115ھ میں ہوئی، جبکہ امام حماد بن ابی سلیمان کی وفات 120ھ میں ہے۔ اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ امام شعبہ کو یہ روایت حماد کی زندگی کے آخری پانچ برسوں میں پہنچی۔

یہ بھی معلوم ہے کہ امام شعبہ کا حماد سے سماع قدیم ہے۔ چنانچہ جب یہ روایت کسی واسطے کے ذریعے امام شعبہ تک پہنچی تو اس وقت امام حماد اپنی زندگی کے آخری مرحلے میں تھے اور اختلاط کا شکار ہو چکے تھے۔ ایسی صورت میں اگر بالفرض خود حماد نے بھی یہ روایت اس مجہول واسطے کو براہِ راست ابراہیم سے بیان کی ہو، تو یہاں تخلیط اور تدلیس کے درمیان فرق کرنا ممکن نہیں رہتا۔

اصولِ نقد کا تقاضا یہی ہے کہ جہاں تدلیس صراحتاً ثابت نہ ہو، وہاں راوی پر تدلیس کا الزام نہیں لگایا جاتا بلکہ جس چیز کا ثبوت ہو، اسی کی طرف نسبت کی جاتی ہے۔ اور یہاں جو چیز قرائن سے ثابت ہوتی ہے، وہ تخلیط ہے، نہ کہ تدلیس۔

اعظمی صاحب کے مطلب کا رد – سوال گندم، جواب چنہ:

اپنے اصل مضمون میں ہم نے اختلاط کا شبہ امام شعبہ کے سماع کے متعلق ہرگز نہیں اٹھایا تھا، بلکہ وہ شبہ صراحتاً اس نامعلوم واسطے کی روایت کے متعلق تھا جس کے ذریعے امام شعبہ تک "حماد عن ابراہیم" والی خبر پہنچی۔ یعنی ہمارا اصل مقدمہ یہ تھا کہ روایت چونکہ "حُدِّث" کے ساتھ ہے، اس لیے واسطہ مجہول ہے، اور اختلاط/ضعف/تسویہ کا احتمال اسی مجہول واسطے کی وجہ سے زیادہ قوی ہے، نہ کہ امام شعبہ کے براہِ راست سماع میں۔

لیکن اعظمی صاحب نے ہماری اصل دلیل اور اس کے تحت قائم مقدمے کا سامنا کرنے کے بجائے بحث کو دوسری طرف موڑ دیا: انہوں نے ہمارے موقف کو بدل کر یوں پیش کیا گویا ہم یہ کہہ رہے ہوں کہ شعبہ کی حماد سے روایت میں اختلاط کا شبہ ہے۔ پھر اسی خود ساختہ دعوے پر رد لکھ کر اپنے تئیں "جواب" مکمل کر دیا۔ یہ طرزِ عمل علمی جواب نہیں، بلکہ بحث سے فرار اور قاری کو غلط سمت میں لے جانا ہے۔

وہ لکھتے ہیں:

A black text on a white background

AI-generated content may be incorrect.

حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ:

·       ہم نے امام شعبہ کی حماد سے روایت پر نہ اعتراض کیا اور نہ اسے محلِّ نزاع بنایا۔

·       ہمارا اعتراض صرف اس بات پر تھا کہ یہ روایت شعبہ تک پہنچی کیسے؟
اور جب خود لفظ "حُدِّث" یہ بتا رہا ہے کہ یہ خبر بالواسطہ پہنچی ہے، تو پھر اصل محلِّ اشکال وہ واسطہ ہے، جس کا نام و حال معلوم ہی نہیں۔

لہٰذا اعظمی صاحب کی یہ پوری کارروائی "رد" نہیں بلکہ سوال سے پہلو تہی ہے:
ہم نے "مجہول واسطہ" اور اس کی روایت پر گفتگو کی؛ انہوں نے "شعبہ کے سماع" کا قصہ چھیڑ کر ایسا جواب دیا جو اصل سوال سے متعلق ہی نہیں۔ یہی تو "سوال گندم جواب چنہ" ہے۔

اصل نکتہ جسے وہ دبانا چاہتے ہیں:

اگر اعظمی صاحب واقعی علمی جواب دینا چاہتے تو انہیں سیدھا یہ بتانا تھا کہ:

1.    "حُدِّث شعبہ عن حماد" میں وہ واسطہ کون ہے؟

2.    اس واسطے کی توثیق کہاں ہے؟

3.    اور اگر واسطہ مجہول ہے تو پھر "اختلاط" یا "تسویہ" کا احتمال اس پر کیوں نہیں؟

4.    پھر امام شعبہ کا حماد سے جا کر "کیا آپ نے ابراہیم سے سنا؟" پوچھنا کس چیز کی دلیل ہے؟

ان سوالات کا جواب دیے بغیر "شعبہ کے سماع" پر لمبی تقریر کرنا صرف دھوکا ہے: اصل کمزوری وہیں کی وہیں رہتی ہے۔

بحث چہارم: امام شافعی کی امام شعبہ سے روایت منقطع ہے:

اعظمی صاحب کو چاہیے تھا کہ "حدثنی" اور "حدث" کی لفظی موشگافیوں میں الجھنے سے پہلے اس روایت کے سب سے بنیادی اور فیصلہ کن ضعف پر غور کر لیتے، اور وہ یہ کہ امام شافعی کی امام شعبہ سے روایت سرے سے متصل ہی نہیں۔ شعبہ اور حماد کے درمیان کے واسطے کی بحث تو بعد کی بات ہے؛ پہلے یہ تو بتایا جائے کہ شافعی اور شعبہ کے درمیان سند کہاں سے ثابت ہے؟

یہ طرزِ استدلال بعینہٖ اس محاورے کے مصداق ہے کہ مچھر چھان لیا مگر اونٹ نگل لیا۔ اصل اور بنیادی ضعف کو نظر انداز کر کے ثانوی اور غیر متعلق بحث میں الجھ جانا کسی سنجیدہ علمی منہج کی علامت نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جب انسان تعصب اور اندھی تقلید کا شکار ہو جاتا ہے تو اپنے موقف کی تائید میں ضعیف سے ضعیف تر چیزوں کو بھی سہارا بنا لیتا ہے، اور جب وہی چیز اس کے موقف کے خلاف آ جائے تو واضح سے واضح ضعف کو بھی نظر انداز کر دیتا ہے۔ اسی تناظر میں اعظمی صاحب کا اس سند کو "سندہ صحیح" قرار دینا محض ایک اجتہادی خطا نہیں بلکہ علمی خیانت اور منہجی بے احتیاطی کی کھلی مثال ہے۔

امام شافعی کی امام شعبہ سے ملاقات کا عدمِ ثبوت

امام شافعی کی ولادت 150ھ میں ہوئی، جبکہ امام شعبہ کی وفات 160ھ میں بصرہ میں ہوئی۔ یعنی امام شعبہ کی وفات کے وقت امام شافعی کی عمر محض دس سال تھی۔ اس عمر میں امام شافعی اپنے آبائی شہر مکہ میں ابتدائی تعلیم حاصل کر رہے تھے، اور کسی بھی معتبر ذریعے سے یہ ثابت نہیں کہ اس زمانے میں وہ بصرہ گئے ہوں یا امام شعبہ سے ملاقات کی ہو۔

خود امام شافعی اپنے ابتدائی تعلیمی سفر کے بارے میں فرماتے ہیں کہ انہوں نے علم کے لیے پہلا باقاعدہ سفر مکہ سے مدینہ کی طرف کیا، اور وہ بھی تیرہ سال کی عمر میں، جب وہ امام مالک کے پاس حاضر ہوئے۔ اس سے پہلے کسی عراقی سفر کا نہ ذکر ملتا ہے اور نہ کوئی قرینہ۔ امام شافعی فرماتے ہیں:

" أتيت مالك بن أنس وأنا ابن ثلاث عشرة سنة "

(میں 13 سال کی عمر میں امام مالک بن انس کی خدمت میں حاضر ہوا)

(مناقب الشافعی: 1/101)

اس کے برعکس یہ بات تاریخی طور پر ثابت ہے کہ امام شافعی نے عراق میں پہلا قدم 195ھ میں رکھا، یعنی امام شعبہ کی وفات کے 35 سال بعد۔ امام زعفرانی فرماتے ہیں:

" قدم علينا الشافعي - يعني بغداد - سنة خمس وتسعين ومائة، فأَقام عندنا سنتين، ثم خرج إلى مكة، ثم قدم علينا سنة ثمان وتسعين، فأقام عندنا أشهراً، ثم خرج "

(ترجمہ: امام شافعی ہمارے پاس آئے — یعنی بغداد — سنہ 195 ہجری میں۔ وہ ہمارے یہاں دو سال مقیم رہے، پھر مکہ روانہ ہو گئے۔ اس کے بعد سنہ 198 ہجری میں دوبارہ ہمارے پاس آئے اور چند ماہ قیام کیا، پھر وہاں سے روانہ ہو گئے۔)

(مناقب الشافعی: 1/220)

اس تاریخی حقیقت کے بعد یہ دعویٰ کہ امام شافعی نے امام شعبہ سے روایت لی، کسی بھی زاویے سے قابلِ قبول نہیں رہتا۔

 

دوسرا استدلال:ا مام حاکمؒ کا حماد کو مدلسین میں شمار کرنا:

اپنی دوسری دلیل پیش کرتے ہوئے اعظمی صاحب فرماتے ہیں:

A close up of a text

AI-generated content may be incorrect.

A white text with black writing

AI-generated content may be incorrect.

 

اس دلیل کا خلاصہ یہ ہے کہ امام حاکم نے المدخل إلی الإکلیل میں اہلِ کوفہ کے ضمن میں "المدلسین" کا ذکر کیا ہے، اور اسی سیاق میں حماد بن ابی سلیمان کا نام آیا ہے، لہٰذا حماد مدلس ہیں اور ان کی معنعن روایات ناقابلِ قبول ہیں۔ یہ استدلال بظاہر علمی دکھائی دیتا ہے، مگر حقیقت میں یہ سیاق فہمی، اصطلاح فہمی اور منہج فہمی تینوں کی صریح خلاف ورزی پر قائم ہے۔

1-         پہلا جواب:

امام حاکم نے یہ کلام صحیح حدیث کی مختلف فیہ اقسام کے ضمن میں ذکر کیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں:

"القسم الثاني من الصحيح المختلف في صحته روايات المدلسين إذا لم يذكروا أسماعهم في الرواية فإنها صحيحة عند جماعة من ذكرناهم من أئمة أهل الكوفة غير صحيحة عند جماعة من قدمنا ذكرهم من أئمة أهل المدينة، ومعنى التدليس أن يقول"

اس تصریح سے بالکل واضح ہے کہ یہاں امام حاکم کا مقصد تدلیس کو بطورِ جنس بیان کرنا اور رواۃ کے اسماع کی تحقیق کے اصول کو واضح کرنا ہے۔ اسی سیاق میں انہوں نے بطورِ مثال امام سفیان بن عیینہ کی ایک روایت ذکر کی ہے۔ تاہم اس مثال کو بنیاد بنا کر یہ سمجھ لینا کہ امام حاکم کے نزدیک تدلیس کی تعریف صرف اسی مثال تک محدود ہے، صریح غلط فہمی ہے۔

اس کی قطعی وضاحت خود امام حاکم کی دوسری تصنیف "معرفہ علوم الحديث" سے ہو جاتی ہے، جہاں انہوں نے تدلیس کی متعدد اقسام اور اجناس ذکر کی ہیں اور ان پر تفصیلی بحث کی ہے۔ وہاں وہ تدلیس الاسناد میں اس صورت کو بھی شامل کرتے ہیں کہ کوئی راوی ایسے شیخ سے روایت کرے جس سے اس کا سماع اور ملاقات اصلاً ثابت ہی نہ ہو (دیکھیں: ص 109)۔ گویا امام حاکم کے نزدیک یہ صورت بھی تدلیس کے دائرے میں داخل ہے، حالانکہ متاخرین کے نزدیک یہ اصطلاحی تدلیس میں شمار نہیں ہوتی۔

لہٰذا ایک بنیادی اصولی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ:

جب امام حاکم کسی راوی پر "تدلیس" کا حکم لگائیں تو لازم ہے کہ پہلے یہ دیکھا جائے کہ وہ تدلیس کی کس نوع کو مراد لے رہے ہیں، اور یہ الزام کن قرائن پر مبنی ہے۔

کیا یہ محض معاصرت اور امکانِ لقاء کی بنیاد پر ہے؟
یا سماع کے ثبوت کے بعد راوی کے کسی شیخ سے تدلیس کرنے پر؟

یہ فرق ملحوظ رکھے بغیر امام حاکم کے لفظ "تدلیس" کو لے کر متاخرین کی اصطلاح پر منطبق کر دینا اصولی خلطِ مبحث ہے۔

اسی اصول کی عملی مثال خود شیخ زبیر علی زئی سے کثرت کے ساتھ ملتی ہے، جن کی پیروی اعظمی صاحب اس باب میں کرتے ہیں۔ شیخ زبیر علی زئی نے اپنی متعدد تصانیف میں امام ابن حبان اور امام ذہبی کے بعض رواۃ پر تدلیس کے الزام کو اسی بنیاد پر رد کیا ہے کہ ان ائمہ کے نزدیک ارسالِ خفی بھی تدلیس میں داخل ہوتا ہے، جبکہ متاخرین کی معتبر اصطلاح میں ایسا نہیں۔ چنانچہ وہاں انہوں نے اصطلاح کے اختلاف کی بنا پر الزامِ تدلیس کو قبول نہیں کیا۔ (دیکھیں: الفتح المبین: ص 31،  55، 62، 64، 127)

پس جب ہم اس پورے معاملے کو اس اصولی تناظر میں دیکھتے ہیں کہ:

·       امام حاکم سے پہلے کسی امام نے حماد بن ابی سلیمان پر تدلیس کا الزام نہیں لگایا،

·       اور امام حاکم کے بعد بھی کسی معتبر محدث نے اس الزام کی تائید نہیں کی،

تو امام حاکم کا یہ مبہم قول مزید مشتبہ، محتمل، اور قرائن کا محتاج ہو جاتا ہے، اور اسے حماد بن ابی سلیمان کے خلاف قطعی حجت بنانا علمی طور پر درست نہیں رہتا۔

 

2-         دوسرا جواب:

اگر بالفرض امام حاکم سے امام حماد بن ابی سلیمان پر اصطلاحی تدلیس کا الزام بھی ثابت مان لیا جائے، تب بھی وہ قابلِ قبول نہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ امام حاکم پانچویں صدی کے متاخر اور متساہل عالم ہیں، جبکہ امام حماد بن ابی سلیمان تابعین کے دور کے جلیل القدر امام ہیں، اور ان دونوں کے درمیان صدیوں کا فاصلہ حائل ہے۔ ایسی صورت میں یہ مان لینا کہ امام حماد کی تدلیس اتنی طویل مدت تک کسی پر ظاہر نہ ہو سکی، مگر صدیوں بعد امام حاکم جیسے عالم پر منکشف ہو گئی، نہ عقلاً قابلِ قبول ہے اور نہ اصولاً۔

خاص طور پر اس وقت جب امام احمد بن حنبل، امام یحییٰ بن معین، امام علی بن مدینی جیسے ائمۂ نقد، اور ان کے بعد کے جلیل القدر ناقدین، ہر دور میں امام حماد کی روایات کی باریکیوں پر گہری نظر رکھتے رہے ہوں۔ ایسے میں یہ دعویٰ کہ ان تمام ائمہ پر امام حماد کی تدلیس مخفی رہی، مگر امام حاکم نے اسے پا لیا، انتہائی بعید بلکہ ناقابلِ تسلیم ہے۔

اگر یہ کہا جائے کہ امام حاکم ایک ناقد امام ہیں اور ان کا حکم روایات کی نقد اور پرکھ کی بنیاد پر ہے، تو اس اصول سے ہمیں اختلاف نہیں۔ بلا شبہ بعد کے ناقدین کا متقدمین کی روایات کا از سرِ نو جائزہ لینا ممکن ہے۔ تاہم اس اصول کے بھی حدود و قیود ہیں۔ صدیوں کے فاصلے کے بعد کسی ایسے عالم کا، جو فن میں متقدمین کے درجے کا نہیں، کسی معروف و مشہور امام پر بلا مثال اور بلا قرینہ ایک نیا حکم صادر کرنا، اصولِ حدیث کی روشنی میں شذوذ شمار ہوتا ہے، اور شاذ قول کو محض قول ہونے کی بنا پر قبول نہیں کیا جا سکتا۔

 

3-         تیسرا جواب:

امام حاکم نے امام حماد بن ابی سلیمان کی تدلیس پر نہ کوئی صریح مثال ذکر کی ہے اور نہ کوئی واضح دلیل پیش کی ہے۔ حالانکہ محدثین نے جن رواۃ کو بھی آج تک مدلس قرار دیا ہے، ان کی تدلیس پر کم از کم کوئی نہ کوئی مثال، قرینہ یا تطبیق ضرور محفوظ ہے۔ محض کسی امام کا کسی راوی کو "مدلس" کہہ دینا، بلا دلیل اور بلا توضیح، اصولِ حدیث کے نزدیک ہرگز کافی نہیں۔

جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ کسی امام کا محض ایک لفظ بول دینا اندھی تقلید کو جائز بنا دیتا ہے، وہ اس علم اور فن کی حقیقت سے بالکل ناواقف ہیں۔ یہاں تک کہ امام احمد بن حنبل اور امام یحییٰ بن معین جیسے چوٹی کے ائمہ کے اقوال بھی دلیل اور سیاق کے بغیر مطلقاً قبول نہیں کیے جاتے، تو پھر امام حاکم جیسے متاخر عالم کی بلا دلیل بات کو کس اصول کے تحت حجت بنا لیا جائے؟

یہ طرزِ عمل دراصل ان لوگوں کا ہوتا ہے جو علمِ حدیث کی باریکیوں اور اس کے منہجی اصولوں سے ناواقف ہوتے ہیں، اور یہ گمان کر لیتے ہیں کہ یہ فن کوئی ایسا مبہم "جادو" ہے جس کے اسرار صرف چند ائمہ ہی جانتے ہیں، اور بعد والوں کے لیے اس میں فہم و تمییز کی کوئی گنجائش نہیں۔ حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ ہر دور کے ائمہ نے نہ صرف اس فن کی خدمت کی بلکہ واضح اصول و قواعد بھی مرتب کیے، اور انہی اصولوں کی بنیاد پر احکام صادر فرمائے۔

اسی وجہ سے بعد والوں کے لیے یہ بالکل جائز بلکہ لازم ہے کہ وہ انہی اصولوں کی روشنی میں ائمہ کے اقوال کو پرکھیں، ان میں صحیح اور غلط کا امتیاز کریں، اور بلا دلیل اقوال کو حجت نہ بنائیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ جو لوگ اس علم کے اصولوں سے جاہل ہوتے ہیں وہ دلیل کے بجائے محض اقوال کی تقلید کرتے ہیں۔ ایسے شخص کے لیے سرے سے یہ مناسب ہی نہیں کہ وہ علمِ حدیث میں کلام کرے، کیونکہ جاہلانہ تقلید کو اصول قرار دینا، اور جاہلوں کو اہلِ علم کے درجے میں لا کھڑا کرنا، محدثین کے منہج سے کوئی تعلق نہیں رکھتا۔

 

4-         چوتھا جواب:

خود امام حاکم نے اسی باب کے آخر میں صراحت کے ساتھ یہ بات بیان کی ہے کہ مدلسین کی روایات کے بارے میں ائمۂ حدیث نے پہلے ہی تفصیلی تحقیق و تفتیش کر لی ہے، ان کی تدلیس شدہ روایات کو ضبط کر لیا ہے، اور یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ کہاں کہاں تدلیس واقع ہوئی ہے اور کہاں نہیں۔ نیز مدلسین کی روایات میں تدلیس اور عدمِ تدلیس کے درمیان تمییز خود روایات کے اندر بالکل ظاہر ہے۔ چنانچہ امام حاکم فرماتے ہیں:

"وأخبار المدلسين كثيرة، وضبط الأئمة عنهم ما لم يدلسوا، والتمييز بين ما دلسوا وما لم يدلسوا ظاهر في الأخبار"

(مدلسین کی روایات بہت زیادہ ہیں، اور ائمہ نے ان کی وہ روایات محفوظ کر لی ہیں جن میں انہوں نے تدلیس نہیں کی، اور ان کی تدلیس شدہ اور غیر تدلیس شدہ روایات کے درمیان امتیاز خود روایات میں واضح طور پر ظاہر ہے۔)

(المدخل الی الاکلیل: ص 46)

اسی طرح ایک دوسری جگہ صراحت کرتے ہیں:

"المتبحر في هذا العلم يميز بين ما سمعوه، وما دلسوه"

(جو شخص اس علم میں گہری مہارت رکھتا ہے، وہ ان روایات میں فرق کر لیتا ہے جنہیں راویوں نے سنا ہے اور جن میں انہوں نے تدلیس کی ہے۔)

(معرفہ علوم الحدیث: ص 109)

ان عبارات سے بالکل واضح ہو جاتا ہے کہ امام حاکم کے نزدیک جو شخص اس فن کے اصول و قواعد میں مہارت رکھتا ہو، اس کے لیے مدلسین کی روایات میں تدلیس شدہ اور غیر تدلیس شدہ روایات میں فرق کرنا کوئی مشکل کام نہیں۔ مزید یہ کہ امام حاکم کے نزدیک ائمۂ حدیث یہ کام پہلے ہی انجام دے چکے ہیں، اور تدلیس کے مواضع کی نشاندہی ہو چکی ہے۔

اسی بنا پر امام حاکم کے منہج کے مطابق کسی معروف اور مشہور راوی کی تمام معنعن روایات کو بلا دلیل اور بلا تفریق محض ایک بلینکٹ حکم کے تحت رد کر دینا نہ صرف غیر ضروری ہے بلکہ خود ان کے بیان کردہ اصول کے خلاف ہے۔

پس اگر امام حماد بن ابی سلیمان کو — بالفرض — مدلس مان بھی لیا جائے، تو سب سے پہلا اور بنیادی سوال یہی پیدا ہوتا ہے کہ:

ان کی تدلیس کی وہ متعین مثالیں کہاں ہیں جن کی بنیاد پر یہ حکم قائم کیا جا رہا ہے؟

امام حاکم خود یہ اصول قائم کر رہے ہیں کہ تدلیس اور عدمِ تدلیس میں تمییز دلیل اور قرائن کی بنیاد پر کی جاتی ہے، نہ کہ اندھی تقلید کے ذریعے۔ گویا وہ خود اس طرزِ فکر کے مخالف ہیں جس میں محض کسی مبہم حکم کو لے کر پورے راوی کی روایات پر قلم پھیر دیا جائے۔

لہٰذا صاحبِ مضمون سے بجا طور پر مطالبہ ہے کہ:

·       پہلے امام حاکم کے اس مبینہ حکم کو دلیل اور مثال سے مزین کریں،

·       اور پھر خود امام حاکم کے اس تصریحی اصول پر بھی عمل کریں کہ مدلسین کی روایات کی تحقیق ہو چکی ہے، اس لیے بلا تفریق ومطلق رد کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔

اس کے بغیر امام حاکم کا نام لے کر اس نوع کا کلی اور غیر اصولی حکم لگانا، نہ امام حاکم کے منہج سے مطابقت رکھتا ہے اور نہ محدثین کے طریقۂ نقد سے۔

 

5-         پانچواں جواب:

اگر بالفرض تدلیس کا الزام ثابت بھی مان لیا جائے، تب بھی محض اسی بنیاد پر امام حماد بن ابی سلیمان کی تمام معنعن روایات کو کلی طور پر رد کر دینا ایسا طرزِ عمل ہے جس کی کوئی مثال نہ خود امام حاکم کے یہاں ملتی ہے اور نہ ان سے پہلے یا بعد دنیا کے کسی معتبر امام یا محدث کے ہاں۔ اس کے باوجود اگر کوئی شخص اس موقف کو اختیار کرے تو یہ سوال ناگزیر ہو جاتا ہے کہ وہ آخر کس منہج کو محدثین کا منہج قرار دے رہا ہے؟

حقیقت یہ ہے کہ یہ موقف انتہائی شاذ ہے، ایسا شذوذ کہ اس کا قائل ایک بھی معتبر محدث موجود نہیں۔ پھر ایسے قول کو محدثین کے منہج سے منسوب کرنا محض دعویٰ نہیں بلکہ اصولِ حدیث کے ساتھ صریح ناانصافی ہے۔ لازم ہے کہ ایسے شخص کو اپنے منہج پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے اور یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ خود کہاں کھڑا ہے اور محدثین کا راستہ کہاں سے گزرتا ہے۔

یوں محتمل اور ضعیف بنیادوں پر پہلے ایک مقدمہ قائم کرنا، اور پھر اس مقدمے پر ایسے نتائج اخذ کرنا جو خود اس بنیاد میں بھی موجود نہ ہوں، درحقیقت جسارت پر جسارت ہے، اور اسے علمی تحقیق یا منہجی التزام کا نام دینا کسی طرح درست نہیں۔

 

چنانچہ امام حاکم کے ایک محتمل، غیر مفصل اور بلا دلیل قول کو بنیاد بنا کر امام حماد بن ابی سلیمان پر تدلیس کا مقدمہ قائم کرنا، اور پھر اس سے ان کی تمام معنعن روایات کے کلی رد کا نتیجہ نکالنا، نہ امام حاکم کا منہج ہے، نہ کسی محدث کا؛ بلکہ یہ اصولِ حدیث کے نام پر ایک خود ساختہ شذوذ اور علمی جسارت ہے۔

تیسرا استدلال:حافظ ابن حجر کا حماد کو طبقات المدلسین میں شمار کرنا:

اعظمی صاحب ابن حجر کی طبقات المدلسین سے حجت لیتے ہوئے لکھتے ہیں:

A close up of black text

AI-generated content may be incorrect.

 

1-         پہلا جواب:

حافظ ابن حجر نے تو اس کتاب میں امام بخاری، امام مسلم، امام مالک، امام دارقطنی اور دیگر جلیل القدر ائمہ کے نام بھی ذکر کیے ہیں۔ اب اگر محض اس کتاب میں کسی کا ذکر آ جانا ہی "مدلس" ہونے کی قطعی دلیل مان لیا جائے، تو لازم آئے گا کہ ان تمام ائمہ کو بھی اسی بنیاد پر مدلس قرار دیا جائے، جو ایک ادنیٰ طالبِ علم کے نزدیک بھی ناقابلِ قبول ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ طبقات المدلسین کی تصنیف میں حافظ ابن حجر کا ایک واضح اور معروف منہج ہے۔ وہ اس کتاب میں ہر اس شخص کو جمع کرتے ہیں:

·       جس پر تدلیس کا ادنیٰ سا شبہ یا اشارہ بھی کیا گیا ہو،

·       یا جس کی طرف تدلیس کی نسبت کی گئی ہو، اگرچہ وہ ثابت نہ ہو،
تاکہ فن کا جامع احاطہ ہو سکے۔

اسی لیے حافظ ابن حجر کے ہاں محض کسی راوی کا طبقات المدلسین میں ذکر آ جانا، اس کے مدلس ہونے کی قطعی دلیل نہیں بنتا، جب تک اس کی تدلیس کی صریح دلیل یا تطبیق پیش نہ کی جائے۔

اس اصول سے اعظمی صاحب کو سب سے زیادہ واقف ہونا چاہیے، کیونکہ ابن حجر کی اس کتاب سے سب سے زیادہ اختلاف خود انہی کے حلقے میں کیا جاتا ہے۔ لیکن جب معاملہ اپنے موقف کا ہو تو اچانک اسی کتاب کو حجتِ قاطع بنا لیا جاتا ہے، اور ابن حجر کے منہج کو پسِ پشت ڈال دیا جاتا ہے۔ اس نوع کی دوہری پالیسی علمی تحقیق نہیں، بلکہ انتخابی استدلال ہے، اور ایسے طرزِ عمل سے اللہ ہی حفاظت فرمائے۔

2-         دوسرا جواب:

حافظ ابن حجر کی طبقاتی تقسیم معروف ہے، اور انہوں نے حماد کو دوسرے طبقے میں ذکر کیا ہے۔ ابن حجر کے نزدیک یہ وہ طبقہ ہے جس کے راویوں کا عنعنہ اصولاً مقبول ہوتا ہے (الا یہ کہ کسی خاص روایت میں تدلیس کی صریح دلیل قائم ہو)۔

اب اگر اعظمی صاحب واقعی ابن حجر کی بات کو حجت بنا کر چلنا چاہتے ہیں تو پھر انصافاً انہیں:

·       ابن حجر کی طبقاتی تقسیم

·       اور اس کے لازم نتائج
دونوں قبول کرنے ہوں گے۔

لیکن یہاں وہ ابن حجر سے صرف لفظ "مدلس" لے کر فائدہ اٹھاتے ہیں، اور ابن حجر ہی کے منہج کے مطابق جو نتیجہ نکلتا ہے (یعنی کلی رد نہیں) اسے چھوڑ دیتے ہیں۔ یہ طریقہ علمی نہیں، بلکہ چناؤ والی استدلال بازی ہے۔

3-         تیسرا جواب:

حافظ ابن حجر کا کسی راوی کو مدلسین میں ذکر کرنے کا مقصد، اور اعظمی صاحب کا کسی راوی کو مدلس قرار دینے کا مقصد، دونوں بالکل مختلف ہیں۔ حافظ ابن حجر کے نزدیک کسی راوی سے کبھی کبھار معمولی تدلیس صادر ہو جانا، یا محض کسی جگہ اس کی طرف تدلیس کا ایک مبہم یا غیر ثابت اشارہ بھی مل جانا، اس بات کو مانع نہیں ہے کہ اس راوی کو بطورِ فائدہ مدلسین میں شمار کر دیا جائے۔ کیونکہ ان کے نزدیک یہ کوئی ایسی بڑی بات نہیں جس کی بنا پر اس راوی کی روایات کے حکم میں کلی تبدیلی آ جائے۔ اسی لیے وہ اس نوع کی باتوں کو بھی بطورِ فائدہ اور معرفت اپنی کتب میں ذکر کر دیتے ہیں، یا احتیاطاً اسے مدلسین میں شمار کر لیتے ہیں، بغیر اس کے کہ اس سے راوی کی مجموعی روایتیت مجروح ہو۔

اس کے برعکس اعظمی صاحب کے ہاں "مدلس" کا لفظ محض ایک فنی اصطلاح نہیں رہتا، بلکہ وہ اسے اس راوی کی احادیث کو رد کرنے کا آلہ بنا لیتے ہیں۔ یہاں تک کہ اگر کسی راوی سے زندگی میں صرف ایک مرتبہ بھی تدلیس کا دعویٰ کر دیا جائے، تو اعظمی صاحب اس کی تمام معنعن روایات کو کلی طور پر رد کر دیتے ہیں۔

صاف ظاہر ہے کہ ان دونوں مناہج کے درمیان زمین و آسمان کا فرق ہے۔ چنانچہ جب بات کسی راوی کی روایات کو رد کرنے تک جا پہنچے، تو محض عمومی ذکر، احتیاطی اندراج، یا بطورِ فائدہ ذکر کافی نہیں ہوتا۔ ایسے مقام پر لازم ہے کہ تدلیس کا الزام صراحت کے ساتھ، متعین مثالوں اور مضبوط دلیل کے ذریعے ثابت کیا جائے۔ اس کے بغیر کسی راوی کو محض فہرست میں شامل ہونے کی بنیاد پر اس کی روایات سے محروم کر دینا، نہ حافظ ابن حجر کا منہج ہے اور نہ محدثین کا۔

 

پس واضح ہوا کہ حافظ ابن حجر کا حماد کو طبقات المدلسین میں ذکر کرنا نہ تدلیس کے قطعی ثبوت کی دلیل ہے، نہ کلی رد کا جواز؛ اور اعظمی صاحب کا اس اندراج سے وہ نتیجہ نکالنا جس کے لیے نہ مثال موجود ہے نہ دلیل، محض انتخابی استدلال اور منہجِ محدثین سے صریح انحراف ہے۔

اس کے بعد اعظمی صاحب نے بعض معاصرین کے حوالے پیش کیے ہیں جنہوں نے حماد کو مدلسین میں شمار کیا ہے۔ تاہم معاصرین کے اقوال بذاتِ خود حجت نہیں ہوتے، اس لیے ان پر تفصیلی جواب دینا ہم ضروری نہیں سمجھتے۔ مزید یہ کہ جن حضرات کا حوالہ دیا گیا ہے، ان میں سوائے شیخ زبیر علی زئی کے، باقی سب نے محض حافظ ابن حجر کی پیروی میں حماد کا ذکر مدلسین میں کیا ہے، اور ان میں سے کوئی بھی امام حماد کی معنعن روایات کے کلی رد کا قائل نہیں۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ان معاصر حوالوں سے بھی اعظمی صاحب کے مطلوبہ نتیجے پر کوئی دلیل قائم نہیں ہوتی۔

خلاصہ کلام:

امام حماد بن ابی سلیمان پر تدلیس کا الزام نہ متقدمین سے ثابت ہے، نہ متاخرین کی کسی مضبوط دلیل سے، اور نہ ہی خود ان ائمہ کے منہج سے جن کے نام پر یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے۔
پس جو موقف قرائن، تاریخ اور اصولِ حدیث تینوں کے خلاف ہو، وہ چاہے کتنی ہی کتابوں کے حوالے سے مزین کیوں نہ کیا جائے، علمی میزان پر وزن نہیں رکھتا—وما علینا إلا البلاغ۔

‏05‏/01‏/2026

رضا حسن

 


0/کمنٹس: